سعودی عرب نے ایشیا کے لیے تیل کی قیمتوں میں کمی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
ریاض: سعودی عرب نے ایک بار پھر ایشیائی خریداروں کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے۔
عرب لائٹ خام تیل کی نئی قیمت اکتوبر کے لیے دبئی/عمان بینچ مارک سے 2.20 ڈالر فی بیرل زیادہ مقرر کی گئی ہے۔
یہ کمی ستمبر کے مقابلے میں ایک ڈالر فی بیرل ہے، جو تجزیہ کاروں کی توقعات (0.40 سے 0.70 ڈالر) سے زیادہ ہے۔ دیگر سعودی تیل کی اقسام کی قیمتوں میں بھی اکتوبر کے لیے 0.
تیل کے تاجروں کے مطابق سعودی فیصلے کی وجہ ایشیا خصوصاً چین میں کمزور طلب کے خدشات ہیں۔ اگرچہ رواں سال مارچ-اپریل کے بعد چین نے خام تیل کی درآمدات میں اضافہ کیا، مگر یہ زیادہ تر ذخیرہ اندوزی (stockpiling) کے لیے تھا، طلب میں حقیقی اضافہ نہیں۔
ادھر ماہرین نے چین میں تیل کی طلب کے جلد عروج پر پہنچنے کی پیش گوئیاں بھی بڑھا دی ہیں۔ ایک سرکاری ریسرچ کمپنی کے مطابق چین میں تیل کی طلب 2027 میں بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد مستحکم ہو جائے گی۔ اس سال طلب میں صرف 100,000 بیرل یومیہ اضافہ متوقع ہے، جو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں (EVs) اور ایل این جی ٹرکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث محدود ہو رہا ہے۔
ریسرچ کے مطابق صرف 2025 میں ہی الیکٹرک گاڑیاں تقریباً 25 ملین ٹن پٹرول کی کھپت کم کر دیں گی، جو کم از کم 580,000 بیرل یومیہ کے برابر ہے۔ تاہم تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اگست میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت کی شرح میں کمی آئی ہے، جو پچھلے مہینے 12 فیصد سالانہ تھی لیکن اب صرف 7.5 فیصد پر رہ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔