شوہر کی سابقہ بیوی سے خوشگوار تعلق ہے: جگن کاظم
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) اداکارہ و میزبان جگن کاظم نے کہا ہے کہ ان کا شوہر کی سابقہ بیوی کے ساتھ خوشگوار تعلق ہے اور اسی وجہ سے وہ بچوں کی اہم تقریبات جیسے گریجویشن میں اکٹھے شریک ہوتے ہیں، تاکہ بچوں کو اپنے والدین کی موجودگی اور تعاون کا احساس ہو۔
جگن کاظم نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی اور جہاں انہوں نے اپنی نجی زندگی کے حوالے سے کھل کر بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی شادی کی ناکامی کے بعد وہ دوسری شادی کرنے سے ہچکچا رہی تھیں کہ کہیں یہ رشتہ بھی ناکام نہ ہوجائے، تاہم ان کے اہلخانہ چاہتے تھے کہ وہ دوبارہ زندگی کا آغاز کریں اور وہ خود بھی اس فیصلے کیلئے تیار تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کی شادی ایسے شخص سے ہو جو کنوارہ نہ ہو تاکہ وہ ان کے حالات کو بہتر انداز میں سمجھ سکے۔
جگن کاظم نے کہا کہ ان کی ملاقات فیصل ایچ نقوی سے ہوئی جو پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کے سابقہ نکاح سے دو بچے بھی تھے، شادی کے بعد ابتداء میں انہیں اپنے شوہر کے بچوں کے ساتھ تعلقات بنانے میں دشواری ہوئی کیونکہ وہ انہیں قبول نہیں کر پا رہے تھے، تاہم وقت کے ساتھ انہوں نے بچوں سے قریبی تعلق قائم کرلیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان بچوں کی ماں بننے کی کوشش نہیں کرتیں کیونکہ ان کی اپنی ماں موجود ہے، بلکہ وہ ان کی زندگی میں ایک بڑے اور معاون فرد کا کردار ادا کرتی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شوہر کی سابقہ اہلیہ عائدہ بھی نہایت مثبت اور مضبوط خاتون ہیں، ان کے ساتھ ان کا تعلق باہمی احترام پر قائم ہے اور وہ بچوں کے حوالے سے ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہیں، عائدہ نہ صرف اپنے بچوں کے ساتھ بلکہ ان کے بیٹے حمزہ کے ساتھ بھی بہت اچھا سلوک کرتی ہیں، اسی باہمی تعاون نے ان سب کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کیا ہے۔
اداکارہ کے مطابق کسی بھی ایسے شخص کے ساتھ جس کے پہلے سے بچے ہوں، شادی تب ہی کامیاب ہوسکتی ہے جب بچوں کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کیا جائے۔
جگن کاظم کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص کا اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ تعلق اچھا نہ ہو تو کسی انسان کو ایک پل کا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے تاکہ بچوں کی اہم تقریبات جیسے شادی یا گریجویشن پر دونوں والدین موجود رہ سکیں، اسی کوشش کے نتیجے میں وہ اپنے شوہر اور ان کی سابقہ بیوی کے ساتھ بچوں کی گریجویشن میں شریک ہوئیں۔
یاد رہے کہ جگن کاظم کی دوسری شادی سال 2013 میں فیصل ایچ نقوی سے ہوئی جن سے ان کے دو بچے ہیں، جبکہ ان کا بڑا بیٹا حمزہ پہلی شادی سے ہے اور فیصل ایچ نقوی کی بھی پہلی شادی سے دو اولاد ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سابقہ بیوی کی سابقہ جگن کاظم انہوں نے کہ وہ ان بچوں کے کے ساتھ بچوں کی
پڑھیں:
گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔
اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔
زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔
خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔
نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔
پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔
قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں