کراچی میں تھڈو ڈیم اوورفلو ہوگیا، سیلابی ریلا موٹروے تک جا پہنچا، تعلیمی ادارے بند، مدد کیلیے فوج طلب
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کراچی ایک بار پھر شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ گڈاپ ٹاؤن میں واقع تھڈو ڈیم میں پانی کی سطح حد سے تجاوز کرنے کے بعد اوورفلو ہوگئی، جس سے نکلنے والا طاقتور سیلابی ریلا شہر کے مختلف علاقوں میں داخل ہوگیا۔
سب سے زیادہ سنگین صورتحال ایم نائن موٹروے پر دیکھنے میں آئی جہاں پانی کا بہاؤ اتنا شدید تھا کہ حیدرآباد اور کراچی کے درمیان ٹریفک مکمل طور پر معطل کر دی گئی۔ موٹروے پولیس کے مطابق پانی موٹروے کے کناروں سے ٹکرا کر کئی حصوں کو زیر آب کر چکا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
سپر ہائی وے پر الحبیب ریسٹورینٹ کے اطراف بھی پانی بھر جانے سے گاڑیاں پھنس گئیں۔ نیشنل ہائی ویز اور موٹروے پولیس نے ہنگامی اقدامات کے تحت کرش بیریئر کو ہٹا کر پانی کے بہاؤ کو موڑنے کی کوشش کی، لیکن تیز ریلا کئی رہائشی آبادیوں تک جا پہنچا۔
اُدھر سعدی ٹاؤن، ملیر، سہراب گوٹھ، خمیسو گوٹھ، لیاری ندی اور مچھر کالونی سمیت مختلف علاقے سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔ بعض جگہوں پر پانی کی سطح چار سے پانچ فٹ تک جا پہنچی جس کے باعث مکین اپنے گھروں اور سامان کو بچانے کے لیے جدوجہد کرتے دکھائی دیے۔ اطلاعات کے مطابق تیز بہاؤ کئی رکشے اور وینیں بھی اپنے ساتھ بہا لے گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر کمشنر کراچی نے ریسکیو کارروائیوں کے لیے تمام اداروں کو متحرک کر دیا۔ ریسکیو 1122 اور ایدھی فاؤنڈیشن کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے نکال کر محفوظ مقامات تک منتقل کر رہی ہیں۔ رینجرز اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں جبکہ ایم نائن موٹروے پر دونوں ٹریک مکمل طور پر بند کرکے شہریوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
شدید بارشوں کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ انتظامیہ کی جانب سے ریلیف آپریشنز کے لیے رینجرز اور فوج کو بھی طلب کیا گیا ہے۔
حیدرآباد سے کراچی آنے والی ٹریفک کو ماڈل روڈ کی جانب موڑا جا رہا ہے جبکہ کراچی سے حیدرآباد جانے والوں کو سبزی منڈی کٹ سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔ موٹروے پولیس اور ٹریفک پولیس مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور جائے وقوعہ پر بھاری نفری تعینات ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہا تو مزید علاقوں میں پانی داخل ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ شہری خوف اور پریشانی کے عالم میں ہیں اور متاثرہ مقامات پر زندگی کا پہیہ تقریباً رک چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں