جسٹس اطہر من اللہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ یہ کلاسک کیس ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ کریمنل جسٹس سسٹم ختم ہو چکا ہے، کیا قتل کے کیس میں ایسی تفتیش کی جاتی ہے، سنی سنائی باتوں پر فیصلہ کیسے فیصلہ ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سندھ ہائیکورٹ کے جج کے بیٹے کے قتل کیخلاف ملزم سکندر لاشاری اور اور شریک ملزم عرفان کی اپیلوں پر سماعت مکمل ہوگئی۔

جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 3  رکنی بینچ نے سماعت کی، سپریم کورٹ کچھ دیر بعد کیس کا فیصلہ سنائے گی۔

دوران سماعت وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے مؤکل ملزم خود ماتحت عدلیہ کا جج تھا، میرے موکل کو قتل میں اعانت کے الزام پر سزائے موت سنائی گئی۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملزم کا ویڈیو بیان موجود ہے، جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ ویڈیو کو عدالت میں پیش کرنے کے جوڈیشل اصول ہیں، ویڈیو کو پیش کرنے سے متعلق کچھ قانون تقاضے ہیں۔

وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اپنایا کہ ملزم نے قتل میں استعمال 5 پستول بر آمد کروائے، جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ ملزم کرائے کے قاتلوں سے قتل کروا کر پستول اپنے پاس کیوں رکھے گا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ کلاسک کیس ہے جس سے پتا چلتا ہے کریمنل جسٹس سسٹم ختم ہو چکا ہے، کیا قتل کے کیس میں ایسی تفتیش کی جاتی ہے، سنی سنائی باتوں پر فیصلہ کیسے فیصلہ ہو سکتا ہے۔

مقتول حنین طارق کا غیرت کے نام پر 2014 میں قتل ہوا، ملزم سکندر لاشاری کو قتل میں اعانت پر سزائے موت سنائی گئی، شریک ملزم عرفان کو  قتل کی سازش میں ملوث ہونے پر 25 سال کی سزا ہوئی۔

مقتول حنین طارق کے والد خالد شاہانی سندھ ہائیکورٹ کے جج ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ