اداکارہ کاجل اگروال انتقال کر گئیں؟ افواہیں گرم
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
جنوبی بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ کاجل اگروال نے سوشل میڈیا پر اپنی خیریت سے آگاہ کرتے ہوئے افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ان کی موت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ کی فلم سنگھم میں اجے دیوگن کیساتھ ان کی گرل فرینڈ کے کردار کیلئے مشہور 40 سالہ کاجل اگروال نے ان دنوں سوشل میڈیا پر گردش کرتی موت کی خبروں پر ردعمل دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایک روڈ حادثے میں ہلاک ہوگئی ہیں۔
یہ بے بنیاد خبریں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہوئیں، جن سے پریشان ہوکر اداکارہ نے خود سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے وضاحت کی کہ وہ مکمل طور پر صحت مند اور محفوظ ہیں۔
کاجل نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبروں پر یقین کرنے کے بجائے سچائی پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی اور غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور تصدیق شدہ ذرائع سے ہی معلومات حاصل کریں۔
اداکارہ کے مداح گزشتہ کچھ دنوں سے ان کی موت کی خبروں کو دیکھ کر پریشان تھے جو کاجل اگروال کی تردید کے بعد اداکارہ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر کاجل اگروال
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔