برطانوی حکومت کی معاونت سے پاکستان کی انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد منشیات سے متعلق مقدمات کی مؤثر نگرانی اور تیز تر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے این ایف کی بین الصوبائی منشیات اسمگلروں کے خلاف کارروائی، بھاری مقدار میں منشیات برآمد

یہ نظام روایتی دستی طریقہ کار کی جگہ ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے اور نظام برطانیہ کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے جو اے این ایف کو کیسز کے اندراج، شواہد کی ڈیجیٹل انداز میں ترتیب اور لیبارٹری رپورٹس کے انضمام میں مدد فراہم کررہا ہے۔

اس نظام کو ابتدائی طور پر فروری 2025 میں پائلٹ بنیادوں پر متعارف کرایا گیا تھا اور اب یہ ملک بھر میں اے این ایف کے تمام علاقائی دفاتر اور پولیس اسٹیشنز میں نافذ کر دیا گیا ہے۔

یہ سسٹم ڈیٹا کی درستگی بہتر بناتا ہے، رپورٹنگ میں تاخیر کو کم کرتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بروقت اور مؤثر کارروائی میں مدد دیتا ہے۔

اس حوالے سے افتتاحی تقریب اے این ایف ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں منعقد ہوئی جس میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ، وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات سید محسن رضا نقوی، ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عبدالمعید، برٹش ہائی کمیشن ، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور دیگر شراکت داروں کے نمائندے شریک ہوئے۔

مزید پڑھیے: اے این ایف کی کارروائیاں، 300 کلو سے زائد منشیات برآمد

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اس موقع پر کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے ساتھ مل کر منظم جرائم اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لیے برطانیہ کے عزم کا مظہر ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ نظام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بناتا ہے اور اس کے مثبت اثرات دونوں ممالک پر مرتب ہوں گے۔

وفاقی وزیر سید محسن رضا نقوی نے اختتامی کلمات میں اس شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہ برٹش ہائی کمیشن کی معاونت سے ہونے والی یہ ڈیجیٹل تبدیلی اے این ایف کو زیادہ مؤثر انداز میں منشیات کے بڑے کیسز سنبھالنے کے قابل بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس تعاون کو اپنی سرحدوں اور معاشرے کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: 2023 میں اربوں روپے مالیت کی 618 میٹرک ٹن منشیات اور ممنوعہ کیمیکلز ضبط کیے گئے، اے این ایف

یہ ڈیجیٹل سسٹم معلومات کے بکھراؤ (ڈیٹا سلوس) اور سست رپورٹنگ جیسے مسائل کا بھی حل پیش کرتا ہے کیونکہ اس میں ریئل ٹائم معلومات کی ترسیل ممکن ہے۔

مستقبل میں اس میں دیگر ڈیٹا بیسز سے روابط اور منشیات سے جڑے مالی جرائم کی نگرانی کے فیچرز شامل کیے جانے کا امکان ہے جس میں برطانیہ کا تعاون جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسدادِ منشیات فورس برطانیہ پاکستان ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسداد منشیات فورس برطانیہ پاکستان ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم اے این ایف کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے