جھوٹ اور بھارتی مداخلت کیلیے نیپالی عوام کا شدید ردعمل، گودی میڈیا کا مکمل بائیکاٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
گودی میڈیا کی نیپال کے اندرونی معاملات میں بھارتی بالادستی کے لیے مذموم پروپیگنڈا مہم بے نقاب ہوگئی۔
نیپال میں داخلی خلفشار کو بڑھانے کے لیے گودی میڈیا نوجوانوں کی تحریک کو پروپیگنڈا رنگ دے رہا ہے لیکن نیپالی عوام نے بھارتی مداخلت اور توسیع پسندانہ مذموم عزائم کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا۔
اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی حمایت میں گودی میڈیا کی جھوٹی کہانیاں نیپالی عوام نے مسترد کرتے ہوئے بھارت کے پروپیگنڈے اور جھوٹ پر مبنی گودی میڈیا کا مکمل طور پر بائیکاٹ کر دیا۔
نیپالی مظاہرین نے بھارتی صحافی کو کہا کہ ’’ہمیں آپ کی سپورٹ کی ضرورت نہیں ہے، ہم جانتے ہیں کہ آپ مودی حکومت کے لیے گودی میڈیا کے ایجنٹ ہیں، پہلے اپنے ملک کے لوگوں کا ساتھ دو پھر ہمارا ساتھ دینا۔‘‘
نیپالی عوام نے گودی میڈیا کے صحافیوں کی جھوٹی رپورٹنگ بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے آپ جا کر بھارت میں ایماندارانہ صحافت کریں۔‘‘
پروپیگنڈا، جھوٹ اور مودی کی چاپلوسی گودی میڈیا کا طرز صحافت بن چکا ہے جبکہ معرکۂ حق کے دوران بھی گودی میڈیا جھوٹ اور پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف رہا۔
گودی میڈیا کی مودی نواز بیانیے کی وجہ سے عالمی سطح پر ساکھ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیپالی عوام گودی میڈیا
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔