سعودی عرب کا فلسطین کے حق میں اقوام متحدہ کنیویارک کی منظوری کا خیر مقدم
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ‘اعلان نیویارک’ اور اس سے متعلق قرارداد کی منظوری کا بھرپور خیر مقدم کرتا ہے۔
یہ قرارداد فلسطین کے مسئلے کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے لیے سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ قیادت میں بلائی گئی کانفرنس کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: حماس کے بغیر فلسطین کا 2 ریاستی حل، اقوام متحدہ میں قرارداد منظور
قرارداد کو 142 ممالک کی بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا، جو عالمی برادری کی جانب سے خطے میں امن قائم کرنے کی خواہش اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا مظہر ہے۔
اس قرارداد میں فلسطینی ریاست کے قیام کی توثیق کی گئی ہے جو 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ہوگی اور جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہوگا۔
سعودی عرب نے اس موقع پر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق مل سکیں اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعلان نیویارک حماس سعودی عرب فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعلان نیویارک فلسطین
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔