پیرس اولمپک کے گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم اور بھارت کے سلور میڈلسٹ نیرج چوپڑا ایک مرتبہ پھر مدِمقابل ہوں گے۔ دونوں کھلاڑی 18 ستمبر کو ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے جیولین فائنل میں شرکت کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ دونوں ایتھلیٹس پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ چار روزہ کشیدگی کے بعد ایک دوسرے کے مقابل آئیں گے۔ پیرس اولمپکس میں ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 برس بعد پہلا گولڈ میڈل جتوا کر تاریخ رقم کی تھی، جبکہ نیرج چوپڑا سلور میڈل پر اکتفا کر سکے تھے۔

اس موقع پر دونوں کھلاڑیوں اور ان کے خاندانوں نے ایک دوسرے کے لیے مثبت جذبات کا اظہار کیا تھا، تاہم حالیہ واقعات کے بعد دونوں نے تعلقات کو کمزور تسلیم کیا۔ نیرج چوپڑا نے واضح کیا کہ وہ اب ارشد ندیم کے قریبی دوست نہیں رہے، جبکہ ارشد ندیم نے کہا کہ جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق جب نیرج نے کامیابی حاصل کی تھی تو انہوں نے مبارکباد دی، اور جب انہوں نے پیرس میں گولڈ جیتا تو نیرج نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

رپورٹس کے مطابق نیرج چوپڑا نے اپریل میں ارشد ندیم کو بھارت میں مقابلے کے لیے دعوت دی تھی، لیکن پہلگام واقعے کے بعد یہ دعوت واپس لے لی گئی۔ اس وقت نیرج چوپڑا اپنی فارم کے عروج پر ہیں، جبکہ ارشد ندیم جولائی میں پنڈلی کی سرجری کے بعد پہلی بار میدان میں اتریں گے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نیرج چوپڑا کے بعد

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں