وفاق کو زرعی ایمرجنسی لگانے کا بلاول بھٹو نے کہا تھا، مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کشمور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے بھی گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا تھا، انہوں نے اس وقت وفاقی حکومت سے کہا تھا زرعی ایمرجنسی لگائیں، میں وزیراعظم کا ایمرجنسی لگانے پر شکرگزار ہوں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو نے وفاق سے بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے متاثرین کو امداد دینے کا بھی کہا تھا، اس کے لیے انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ریلیف کے کاموں میں حصہ ڈالنے کی اپیل کرنے کا بھی کہا تھا کیوں کہ عالمی طور پر ماحولیاتی بحران کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ہے لیکن متاثر ہم ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فوراً بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے امداد اور اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ریلیف کی اپیل کرے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ ساڑھے 6 سے 7 لاکھ کیوسک تک پانی سکھر بیراج سے گزر سکتا ہے، شکارپور اور کشمور میں موجود بند کے کمزور حصوں پر محکمہ آبپاشی کی مشینری موجود ہے، انشااللہ ہم خوش اسلوبی سے پانی سکھر بیراج سے گزاریں گے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اب تک دریا کے آس پاس کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے، کشمور میں 30 ہزار لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سکھر بیراج سیلاب گڈو بیراج مراد علی شاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سکھر بیراج سیلاب گڈو بیراج مراد علی شاہ مراد علی شاہ سکھر بیراج کہا تھا کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔