پاک بھارت ٹاکرا، بھارتی مسلم رہنما پاکستان دشمنی میں دو ہاتھ آگے نکل گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
بھارتی مسلم رہنما اسد الدین اویسی پاکستان دشمنی میں دو ہاتھ آگے نکل گئے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایشیا کپ میں پاکستان سے میچ کھیلنے پر بھارتی حکومت اور کرکٹ بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسد الدین اویسی نے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب دوطرفہ سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا تو کھیل کیوں رہے ہیں۔
انہوں نے بھارتی حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ پاکستان سے میچ کا بائیکاٹ کرسکو۔
اسد الدین اویسی کا مزید کہنا تھا کہ چند ہزار کروڑ روپوں کے لیے میچ کھیلنے والوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ بھارتی حکومت اور بی سی سی آئی نے پاکستان کیخلاف میچ کھیلنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ عالمی اداروں کی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہو۔
رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی کے اعلیٰ حکام میچ کے دوران موجود نہیں ہوں گے، صرف قائم مقام صدر راجیو شکلا شرکت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسد الدین اویسی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔