ٹرمپ کے بعد اسرائیلی وزیر خزانہ نے بھی غزہ ہتھیانے کا منصوبہ پیش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسرائیلی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جنگ پر رقم خرچ کی، غزہ کی زمین بیچ کر اُسی شرح سے منافع بھی تقسیم ہو۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی تقسیم سے متعلق امریکی حکام سے بات کرچکے ہیں، غزہ کی تقسیم کا بزنس منصوبہ صدر ٹرمپ کی میز پر موجود ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد اسرائیلی وزیر خزانہ نے بھی غزہ کو ہتھیانے کا منصوبہ پیش کر دیا۔ اسرائیلی وزیر خزانہ نے کہا کہ غزہ کو منافع بخش ریئل اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، امریکا سے مذاکرات ہوئے ہیں کہ غزہ کو کیسے آپس میں تقسیم کیا جائے۔ وزیر خزانہ اسرائیل کا کہنا تھا کہ جنگ پر رقم خرچ کی، غزہ کی زمین بیچ کر اُسی شرح سے منافع بھی تقسیم ہو۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی تقسیم سے متعلق امریکی حکام سے بات کرچکے ہیں، غزہ کی تقسیم کا بزنس منصوبہ صدر ٹرمپ کی میز پر موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر خزانہ غزہ کی تقسیم
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔