پرتگالی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کے روز فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک ریاست تسلیم کر لیا جائے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی مسلسل جارحیت، غزہ پر بمباری اور فلسطینی عوام کی قربانیاں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔

پرتگالی وزیرِ خارجہ پاؤلو رینگل نے اپنے حالیہ برطانیہ کے دورے کے دوران عندیہ دیا تھا کہ لزبن حکومت اس حوالے سے غور کر رہی ہے اور اب باضابطہ بیان کے ساتھ یہ فیصلہ عالمی برادری کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ پرتگال نے کئی برسوں تک یورپی یونین کے اندر مشترکہ موقف پر زور دیا، تاہم اسرائیلی مظالم اور غزہ میں انسانی بحران نے اسے اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کیا۔

یہ اعلان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے جہاں اس ماہ کئی ممالک فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کرنے والے ہیں۔

مبصرین کے مطابق پرتگال کا فیصلہ نہ صرف یورپی یونین کے اندر ایک نئی لہر پیدا کرے گا بلکہ اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ کو بھی مزید بڑھائے گا۔ اسرائیل اور اس کے پشت پناہ ممالک ہمیشہ سے ایسے اقدامات کی مخالفت کرتے آئے ہیں لیکن عالمی سطح پر فلسطین کے حق میں رائے ہموار ہو رہی ہے۔

اس سے قبل فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ پرتگال کا تازہ اقدام اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت کے باوجود عالمی برادری اب مزید خاموش نہیں رہ سکتی۔

غزہ میں ہزاروں بے گناہ شہادتیں، محاصرہ اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں اس بات کا تقاضا کر رہی ہیں کہ فلسطین کو مکمل ریاستی حیثیت دی جائے تاکہ قابض اسرائیل کے خلاف سیاسی و قانونی دباؤ بڑھایا جا سکے۔

یہ پیش رفت فلسطینی عوام کے حوصلے بلند کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں نئی سفارتی صف بندی کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین کے مزید ممالک بھی یہی راستہ اختیار کریں تو اسرائیل کے لیے اپنی پالیسی کا دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا اور فلسطین کو عالمی سطح پر مزید پذیرائی ملے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: فلسطین کو تسلیم کر

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان