سعودی واٹر اتھارٹی کا پانی صاف کرنے کی ٹیکنالوجیز کے لیے ورچوئل انویشن سینٹر کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
سعودی واٹر اتھارٹی نے کنگ عبدالعزیز سٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے تعاون سے پانی صاف کرنے کی ٹیکنالوجیز میں جدت کے لیے ایک مشترکہ ورچوئل سینٹر قائم کر دیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس مرکز کا مقصد پائیداری کو فروغ دینا، جدید مٹیریل اور قابل تجدید توانائی سے استفادہ کرنا اور ریسرچ تعاون کے ذریعے پانی کی ٹیکنالوجی میں قومی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب اور ٹیکنالوجی کمپنی ڈیل کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط
یہ مرکز تینوں اداروں کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کے تحت قائم کیا گیا ہے جس کی بنیاد پر کئی اہم شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔ ان میں بنیادی واٹر ٹریٹمنٹ کی کارکردگی میں اضافہ کے لیے مقامی ممبرینز کی تیاری، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور گریجویٹ طلبا کے لیے مشترکہ ریسرچ لیبارٹریوں کا قیام شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق یہ شراکت پانی کے شعبے میں پائیدار اور جدید حل تلاش کرنے، قومی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانے، اور تعلیمی و تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پانی ٹیکنالوجی سعودی عرب فلٹریشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پانی ٹیکنالوجی فلٹریشن کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔