Jasarat News:
2026-06-03@05:40:33 GMT

مشرقِ وسطیٰ کا نیا دفاعی منظرنامہ

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حالیہ دنوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑے مباحثے کا موضوع بن چکا ہے۔ اس معاہدے نے جہاں پاکستان کی جوہری صلاحیت کو ایک وسیع تر دائرہ کار میں لا کھڑا کیا ہے، وہیں مشرقِ وسطیٰ کے عدم استحکام کے پس منظر میں اس کے اثرات مزید پیچیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں، قطر پر حالیہ حملے اور خلیج تعاون کونسل کے غیرمعمولی اقدامات نے اس معاہدے کو ایک ’’گیم چینجر‘‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے امریکا پر لٹائی جانے والی دولت عرب ممالک کی دفاع میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتی ہے اور اسرائیل اپنی دہشت گردی کا دائرہ پھیلائے گا اور یہی وجہ ہے اب مشرق وسطیٰ میں بے چینی پائی جاتی ہے یہ کب تک رہتی ہے ابھی یہ سوال ہے لیکن مستقبل میں اصل معرکہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان ہی ہونا ہے۔ اسرائیل نے حالیہ برسوں میں جس انداز سے جارحانہ حکمت ِ عملی اختیار کی ہے، وہ صرف فلسطین یا لبنان تک محدود نہیں رہی بلکہ قطر پر براہِ راست حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل اب خطے کے ہر ملک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے۔ عالم ِ اسلام کو یہ ادراک تو ہو گیا ہے کہ باری آنے والی ہے اور سب کی نظریں اب پاکستان پر مرکوز ہیں۔ کیونکہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور عسکری قوت ہی وہ واحد رکاوٹ ہے جو اسرائیلی عزائم کے سامنے ڈٹ سکتی ہے اور بھارت سے معرکے نے پاکستان کی طرف دوست دشمن سب کو پھر متوجہ کرلیا ہے۔ گوکہ پاکستان نے ایٹمی طاقت بننے کے بعد ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کی جوہری صلاحیت صرف بھارت کے خلاف دفاعی توازن قائم رکھنے کے لیے ہے۔ یہ مؤقف عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمے دار ایٹمی قوت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ تاہم، حالیہ دفاعی معاہدے نے اس مؤقف کو نئے زاویے سے اُجاگر کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی جوہری چھتری کو سعودی عرب اور وسیع تر خلیجی خطے تک وسعت دے رہا ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے نے سعودی سرمایہ اور پاکستانی عسکری صلاحیت کو یکجا کردیا ہے۔ اگرچہ تفصیلات خفیہ ہیں، لیکن سعودی اشارے بتاتے ہیں کہ یہ تعاون صرف روایتی ہتھیاروں یا فوجی مشقوں تک محدود نہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو اسرائیل اور بھارت کی تشویش کا باعث ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اب ایک بڑے مسلم اتحاد کے تحفظ کے طور پر بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ دوحا پر اسرائیل کا حملہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک انتباہ تھا۔ حماس کے وفد پر حملے نے یہ واضح کردیا کہ اسرائیل اب کسی بھی خلیجی ریاست کو براہِ راست نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائے گا۔ اسی لیے خلیج تعاون کونسل نے اجتماعی دفاع کو مضبوط کرنے کے فیصلے کیے ہیں۔ انٹیلی جنس کے تبادلے، بیلسٹک میزائلوں کے خلاف ابتدائی انتباہی نظام اور مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان اس نئی تبدیلی کی علامت ہیں۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ خطے کے ممالک اپنی بقا کے لیے اب مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ورنہ آنے والے وقت میں ان کے لیے کچھ بہت اچھا نہیں ہونا والا۔ اسی پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ بظاہر ایک موقع ہے۔ سعودی عرب کو تحفظ، پاکستان کو سرمایہ کاری اور مسلم دنیا کو اتحاد کا پیغام ہے، یہ تین بڑے فوائد تو ہیں، بس یہ خواب نہ بن جائے۔ لیکن اس کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ پاکستان کی جوہری پالیسی پر سوالات اٹھیں گے اور عالمی برادری اسے عدم پھیلاؤ کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دے سکتی ہے۔ بھارت اس صورتِ حال کو اپنے حق میں استعمال کرے گا اور پاکستان کو عالمی دباؤ میں لانے کی کوشش کرے گا۔ ایران اور دیگر علاقائی قوتیں بھی اس معاہدے کو شک کی نظر سے دیکھیں گی اسی لیے یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سعودی عرب اور ایران عالم اسلام کے لیے حقیقی معنوں میں قریب آئے یہ دنوں کے لیے ضروری ہے ورنہ دشمن و متحد ہے اور سامنے ہے۔ لبنان کی حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے حالیہ خطاب میں سعودی عرب کو ایک نئے باب کے آغاز کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب اختلافات کو پس پشت ڈال کر اسرائیل کو دشمن تسلیم کیا جائے اور متحد ہو کر اس کا مقابلہ کیا جائے۔ یہ بیان خطے کی سیاست میں ایک نئی صورت حال پیدا کر رہا ہے۔ اگر سعودی عرب اور حزب اللہ کسی نئے مکالمے کی طرف بڑھتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن مزید بدل سکتا ہے۔ اسرائیل کے اہداف صرف فلسطین یا لبنان تک محدود نہیں بلکہ سعودی عرب، ایران اور یمن تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں حزب اللہ کا یہ بیانیہ خلیجی ممالک کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اندرونی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ دشمن پر توجہ مرکوز کریں۔ جی سی سی کے حالیہ فیصلے امید افزا ضرور ہیں، لیکن ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ سیاسی رقابتیں اور داخلی اختلافات اکثر ان کوششوں کو ناکام بناتے رہے ہیں۔ سعودی عرب اور قطر کے تعلقات میں کشیدگی یا امارات اور عمان کے مختلف مؤقف، اس اتحاد کو کمزور کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ حالیہ اقدامات وقتی ردِعمل ہیں یا ایک مستقل دفاعی ڈھانچے کی بنیاد ہیں؟ دوسری طرف یہ بھی اہم ہے کہ اس دفاعی معاہدے کے معاشی پہلو بھی بہت اہم ہیں۔ سعودی سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نئے نظام اور اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات کو سہولت دینے کے امکانات پاکستان کی معیشت کے لیے بڑی خبر ہیں۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ، ڈیموں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اگر سعودی اور چینی سرمایہ کاری کے ساتھ جڑ جائیں تو پاکستان کی ترقی کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ پاکستان کے اندرونی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل سے مشروط ہے۔ یہ معاہدہ صرف مشرقِ وسطیٰ یا جنوبی ایشیا تک محدود نہیں۔ امریکا، یورپ، روس اور چین سب اسے اپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ امریکا چاہے گا کہ سعودی عرب اس کے قریب رہے اور پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے۔ چین اسے اپنی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تناظر میں دیکھے گا۔ روس خلیجی خطے میں نئے مواقع تلاش کرے گا۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ایک توازن قائم رکھنا ناگزیر ضرور ہے لیکن اس میں اصل چیز تمام مسلمان ممالک کے لیے اہم یہ ہے کہ مسلمانوں کو تحفظ ملے، فلسطینی مسلمانوں کی جدوجہد کو کامیابی ملے اور آج یہ جو کچھ سامنے آیا ہے، اس میں صرف فلسطین کے شہدا کی قربانی ہے لیکن اس میں صورت حال میں سعودی عرب کا تاریخی تعلق، چین کا تزویراتی اشتراک اور امریکا و یورپ کا دباؤ، یہ سب مل کر پاکستان کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں۔ لیکن درحقیقت پاکستان، سعودی دفاعی معاہدہ ایک تاریخی موڑ ہے۔ اس کے مثبت پہلو نمایاں ہیں: سعودی عرب کا تحفظ، ہر مسلمان کی ذمے داری ہے اس کی عالمی ساکھ میں اضافہ اور مسلم دنیا کے اتحاد کا پیغام بنا ہے لیکن اس کے خطرات بھی ہیں جس سے نمٹنا ہوگا، عالمی دباؤ، جوہری پالیسی پر سوالات اٹھیں گے، بھارت کو دشمن ضرورت استعمال کرے گا لیکن ان سب سے مثبت سوچ اور خوف کے بغیر لڑنا ہوگا، یہ چومْکھی لڑائی ہے۔ لہٰذا پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کو شفافیت کے ساتھ آگے بڑھائے، پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لے اور عالمی برادری کے ساتھ مسلسل مکالمہ جاری رکھے اور ہر قدم حکمت و تدبر کے ساتھ اٹھایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سعودی عرب اور تک محدود نہیں پاکستان کی پاکستان کو کہ پاکستان کے لیے ایک اس معاہدے ہے لیکن سکتی ہے رہے ہیں کے ساتھ لیکن اس کرے گا کو ایک ہے اور

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے