سعودیہ ماضی کے اختلافات پس پشت ڈال کر ہمارے ساتھ نئے باب کا آغاز کرے‘ حزب اللہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250921-08-21
بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک)لبنان کی مزاحتمی تحریک حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے سعودی عرب سے اپیل کی ہے کہ ان کے ساتھ تعلقات بہتر کریں اور اسرائیل کے خلاف متحدہ محاذ قائم کریں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کی جانب سے شمالی لبنان پر تازہ حملوں کے بعد سعودی عرب سے مل کر لڑنے کی اپیل کی ہے۔نعیم قاسم نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ نئے باب کا آغاز کریں جو تین اصولوں تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور تحفظات دور کرنے، اسرائیل کو دشمن تسلیم کرنے اور ماضی کے اختلافات کو ختم کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مزاحمتی ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف ہیں نہ کہ لبنان، سعودی عرب یا دنیا کے کسی اور ملک یا مقام کے خلاف ہیں۔حزب اللہ کے سربراہ نے خبردار کیا کہ ان کی تنظیم پر دباؤ سے صرف اسرائیل کو فائدہ ہوگا اور اگر اس کو ختم کیا گیا تو پھر باری دوسری ریاستوں کی آئے گی۔نعیم قاسم نے اسرائیل کو پہلے برطانیہ اور اب امریکا کی نوآبادیات سے تعبیر کیا اور بربریت کی انتہا کو پہنچنے کا مرتکب قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو جرائم کرنے کے لیے امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ سافٹ وار، پابندیاں اور معاہدہ ابراہم تمام حربے امریکا اور اسرائیل کو فوری اور فیصلہ کن فتح دلانے میں ناکام ہوئے ہیں اور اب کے لیے نسل کشی ہی واحد حل بن گئی ہے۔نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کا 9 ستمبر کو قطر پر حملہ ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے اور قطر پر حملے کے بعد جو نتائج ہوں وہ اس سے پہلے والے نتائج سے مختلف ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جب امریکا نے یہ قرار دیا کہ وہ اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کرتا ہے تو کیسے ہم کسی امریکی یا غیرامریکی منصوبے پر اعتماد کرسکتے ہیں یا پھر رعایت پر رعایت کیسے تسلیم کرسکتے ہیں۔حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکا نومبر 2024 ہوئے جنگ بندی معاہدے کی شرائط کے تحت لبنان پر حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ مضبوط پوزیشن پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کا عزم غیرمتزلزل ہے اور سرزمین سے اسرائیلی فورسز کا اخراج اور آزادی بنیادی مقصد ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حزب اللہ کے اسرائیل کو نے کہا کہ کے خلاف ہے اور کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں