ٹرمپ نے ایک اور ملک پر حملے کی تیاری کرلی، اب تک کی سب سے بڑی بحری افواج کی تعیناتی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو وینزویلا کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے تمام قیدیوں کو واپس لے، جنہیں بقول ان کے وینزویلا نے زبردستی امریکا بھیجا ہے، بصورت دیگر بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
ٹرمپ نے یہ دھمکی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر جاری ایک پیغام میں دی۔ تاہم، انہوں نے ان قیدیوں کی شناخت یا تعداد کے بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ پوسٹ میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ان میں بعض ”دماغی امراض کے اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد“ شامل ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ واضح نہیں کیا کہ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ اس دھمکی کے تحت کس قسم کی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا نے جمعہ کے روز امریکا پر کیریبین میں ”غیراعلانیہ جنگ“ مسلط کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور اقوامِ متحدہ سے امریکی حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، جن میں حالیہ ہفتوں میں کشتیوں پر سوار 12 سے زائد مبینہ منشیات اسمگلروں کو ہلاک کیا گیا تھا۔
امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب عالمی سمندر میں جنگی بحری جہاز تعینات کیے ہیں، جنہیں پورٹو ریکو میں موجود ایف-35 طیاروں کی مدد حاصل ہے۔ واشنگٹن ان کارروائیوں کو انسدادِ منشیات آپریشن قرار دے رہا ہے۔
وینزویلا کے وزیر دفاع، ولادی میر پادریو لوپیز نے، ایک فوجی مشق کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ، ”یہ ایک غیراعلانیہ جنگ ہے، اور اب یہ سب دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ چاہے وہ منشیات اسمگلر ہوں یا نہ ہوں انہیں ہلاک کیا جا رہا ہے۔“
ان کے یہ بیانات امریکی صدر ٹرمپ کے ایک اور حملے کے اعلان سے چند گھنٹے پہلے سامنے آئے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک اور کشتی پر حملے میں تین مزید مبینہ ”نارکوٹیرورسٹ“ مارے گئے، جس کے بعد حالیہ ہفتوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 17 ہو گئی ہے۔
ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملہ کب ہوا، صرف اتنا کہا کہ یہ حملہ ”امریکی سدرن کمانڈ“ کے دائرہ اختیار میں ہوا، جس میں وسطی اور جنوبی امریکا کے ساتھ ساتھ کیریبین خطہ بھی شامل ہے۔
ان حملوں نے قانونی اور انسانی حقوق کے ماہرین کے درمیان بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ امریکی قانون کے تحت منشیات کی اسمگلنگ سزائے موت کا جرم نہیں ہے۔ واشنگٹن نے تاحال کوئی ایسے شواہد بھی پیش نہیں کیے جن سے ثابت ہو کہ نشانہ بننے والی کشتیاں واقعی منشیات اسمگل کر رہی تھیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔