سول سروس اکیڈمی کومعیاریادارہ بنایا جائیگا ،وزیراعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250923-11-6
کوئٹہ(نمائندہ جسارت) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان سول سروس اکیڈمی کو پاکستان کا ممتاز اور معیاری تربیتی ادارہ بنایا جائے گا جہاں پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے تمام علاقوں کے افسران تربیت حاصل کریں گے اور وہ دن ہمارے خواب کی عملی تعبیر ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز بلوچستان سول سروس اکیڈمی میں زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنرز اور سیکشن افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ عبدالمجید بادینی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی سید فیصل آغا، بلوچستان سول سروس اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالحفیظ جمالی سمیت مختلف محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور ریٹائرڈ افسران بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے زیر تربیت افسران کو میرٹ پر انتخاب اور اپنے ہی صوبے میں سول سروس کی تربیت حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سول سروس اکیڈمی ایک وقت میں ایک ننھا پودا تھا جو آج تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ اس اکیڈمی کو پاکستان کا منفرد اور اعلیٰ معیار کا ادارہ بنایا جائے گا جہاں ملک بھر سے افسران تربیت حاصل کرنے کو باعثِ فخر سمجھیں گے انہوں نے افسران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے سے تربیت مکمل کرنے کے بعد جب آپ دفاتر جوائن کریں گے تو آپ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جائیں گی آپ کو خود کو صرف افسر نہیں بلکہ عوام کا خدمتگار اور رہنما سمجھ کر پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے لیے پوری نیک نیتی اور لگن کے ساتھ کام کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ ایک شاندار مستقبل آپ سب کا منتظر ہے تاہم حقیقی کامیابی عوام کی خدمت سے ہی جڑی ہوئی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آپ سب کا انتخاب میرٹ پر ہوا ہے، لہٰذا آپ سے توقعات بھی بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے بلوچستان کے عام شہری کے لیے کام کرنا ہے، وہ عام آدمی جو سخت سردیوں میں ٹھٹرتا ہے اور گرمیوں میں جھلستا ہے سول سروس میں تقرری، تعیناتی اور ترقی معمول کی بات ہے لیکن معاشرہ ہمیشہ ان افسران کو یاد رکھتا ہے جو کچھ منفرد اور یادگار کام سرانجام دیتے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ پاکستان اور محروم طبقے کی خدمت کو اپنی پہچان بنائیں۔ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان سول سروس اکیڈمی کی ترقی کے لیے وسائل کی فراہمی کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ جس طرح دیگر شعبوں کے لیے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں اسی طرح اس اکیڈمی کی ضروریات اور بہتری کے لیے بھی بلا جھجھک وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خواب ہے کہ یہ ادارہ اتنا معیاری اور مثالی بنے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ا کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ