data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250926-03-3
وجیہ احمد صدیقی
لداخ میں گزشتہ کئی دنوں سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کا بھارتی سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم ہوا ہے۔ لہیہ اپیکس باڈی نے شٹ ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا تھا یہ ہڑتال الگ ریاست کا مطالبہ منوانے اور اس کے لیے آئینی ضمانت مانگنے کے لیے تھی۔ ان کے ان مطالبات کے نتیجے میں بھارتی افواج نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے چار مظاہرین ہلاک ہوئے اور 70 زخمی ہوئے۔ احتجاجی مظاہرین نے بی جے پی کے دفاتر کو آگ لگا دی اور پولیس کی گاڑیوں پر حملہ کیا اور سیکورٹی فورسز کو کرفیو لگانے سے روکا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا ہے جبکہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے ختم کرنے کے بعد لداخ کی یونین ٹیریٹری کی حیثیت ختم ہو گئی تھی۔
لداخ میں ستمبر 2025 میں تشدد اور احتجاج زور پکڑ چکے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے وفاقی ریاست کا درجہ دینے اور خطے کے لیے چھٹے شیڈول کے تحت خودمختاری کے مطالبات پر احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ احتجاج کے دوران شہر میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں کم از کم چار افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے۔ پولیس نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھیاں استعمال کیں۔ بعض احتجاجیوں نے بھارتی حکمران پارٹی بی جے پی کے دفتر کو آگ لگا دی۔ اس کے نتیجے میں علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ مظاہرے خاص طور پر لہیہ اپیکس باڈی (LAB) کی طرف سے ریاست کا درجہ اور چھٹا شیڈول شامل کرنے کے لیے بھوک ہڑتال کے بعد شروع ہوئے، جس میں ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک بھی شامل ہیں۔ احتجاج میں مقامی نوجوان طبقہ ایک طرف ہے جو اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہا ہے، تو دوسری طرف حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اسی دوران بھارت اور چین کے درمیان لداخ کی سرحد پر کشیدگی جاری ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت بھی جاری ہے لیکن مسائل حل نہیں ہو سکے۔ خطے میں پچھلے کچھ سال سے چین نے اپنی فوجی موجودگی بڑھائی ہے جس کا بھارت بھی مقابلہ کر رہا ہے۔ مختصر یہ کہ لداخ میں ستمبر 2025 میں احتجاج اور سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سرحدی تناؤ بھی ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے جس سے علاقے کی امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
لداخ کی تازہ ترین صورتحال کے ذمے داروں میں مختلف پہلو شامل ہیں۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک اہم سرنگ پر حملے کی ذمے داری کسی مسلح گروہ نے باضابطہ طور پر قبول نہیں کی، لیکن انڈین خفیہ ایجنسیوں نے اس حملے کا الزام پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کی ذیلی شاخ ’دا ریز ِسٹنس فرنٹ‘ پر عائد کیا ہے۔ یہاں حملے کا مقصد لداخ میں اہم دفاعی اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو خوفزدہ کرنا بتایا جا رہا ہے، خاص طور پر 25 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو رہی 19 اہم سرنگوں کی سیکورٹی کے تناظر میں یہ حملہ تشویش کا باعث ہے۔ اس حملے کے بعد انڈین حکومت نے پاکستان کو براہ راست الزام نہیں دیا، بلکہ ایک محتاط لہجہ اپنایا ہے۔ اسی دوران، لداخ میں مقامی عوام اور طلبہ لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے پر احتجاج کر رہے ہیں، جس کی قیادت ماہر ماحولیات سونم وانگ چک کر رہے ہیں۔ ان احتجاجوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کو مخصوص حقوق دیے جا سکیں۔ ان حالات میں لداخ کی تازہ صورتحال کی ذمے داری کو اگر تعلقات کی سطح پر دیکھا جائے تو سرحدی تشدد کے پس منظر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا کردار نمایاں ہے، جبکہ اندرونی سطح پر ترقیاتی منصوبوں اور مقامی حقوق کے حوالے سے مطالبات اور احتجاج بھی جاری ہیں جو صورتحال کو نازک بنا رہے ہیں۔ لداخ واقعہ کی تاریخ اور پس منظر درج ذیل ہے۔
لداخ بھارت کا ایک اہم اور جغرافیائی لحاظ سے حساس خطہ ہے جو شمال میں قراقرم کی پہاڑیوں اور جنوب میں ہمالیہ کے درمیان واقع ہے۔ اس علاقے کی تاریخ بہت پرانی اور متنوع ثقافتوں اور سلطنتوں سے جڑی ہوئی ہے۔ 19 ویں صدی میں زورآور سنگھ نے لداخ کو جموں کی ریاست میں شامل کیا، جس کے بعد یہ خطہ بھارت کے سیاسی نقشے کا حصہ بنا۔ لداخ کی سرحدی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کیونکہ یہ بھارت، چین اور پاکستان کے درمیان سرحدی تنازع کا مرکز ہے۔ 1962 میں بھارت اور چین کے درمیان لداخ میں سرحدی جھڑپیں ہوئیں اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھی۔ اس کے علاوہ لداخ میں کشمیر تنازع کے ضمن میں بھی کشیدگیاں نظر آئیں جو 1947 کے بعد شروع ہوئیں۔ 2019 میں بھارت نے جموں و کشمیر کے خصوصی آئینی حقوق میں تبدیلی کر کے لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے ایک یونین ٹیریٹری بنایا، جس نے علاقے کی سیاسی حیثیت کو تبدیل کر دیا اور اسے مزید حساس بنا دیا۔ لداخ میں نئی سیاسی تقسیم، چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی، اور مقامی سیاسی خودمختاری کی تحریکوں نے اس خطے کو مسلسل امن و امان کے مسائل اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا رکھا ہے۔ خلاصہ یہ کہ لداخ واقعہ کی جڑیں تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی عوامل میں پنہاں ہیں، جن میں زوریہار سنگھ کے دور سے لے کر 1962 کی چین بھارت جنگ اور 2019 کی سیاسی تبدیلیوں تک کی داستان شامل ہے۔ یہ تمام واقعات اس خطے کی موجودہ صورتحال اور تنازعات کی بنیاد بنے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے درمیان میں بھارت ریاست کا لداخ کو رہے ہیں لداخ کی کے بعد کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین