پشاور میں جلسے کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے  سلمان اکرم راجا، اسد قیصر اور جنید اکبر جلسہ گاہ پہنچے۔ اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کال پر کل پشاور میں جلسہ ہوگا۔ ہم ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ 2022ء کے بعد کی پالیسیاں حالات خراب ہونے کی وجہ ہیں۔ پشاور میں جلسے کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے  سلمان اکرم راجا، اسد قیصر اور جنید اکبر جلسہ گاہ پہنچے۔ اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کال پر کل پشاور میں جلسہ ہوگا۔ ہم ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ کے واقعہ پر عمران خان افسردہ ہیں۔ 2022ء  کے بعد کی پالیسیوں کی وجہ سے حالات خراب ہورہے ہیں۔ دہشتگردوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ کل کا جلسہ بربریت کے خلاف احتجاج ہوگا۔  ہم صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت  جاری کیے گئے نوٹسز کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ محکوم ہے۔ تحریک انصاف کا بنیادی مقصد آئین و قانون کی حکومت ہے۔

پریس کانفرنس  میں اسد قیصر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ  کل کا جلسہ عمران خان کی رہائی کے لیے ہے ۔ ہم امن کی بات کرتے ہیں۔ جب روس آیا، یہاں جنگ شروع ہوئی۔ اس صوبے کی معیشت کو نقصان ہوا۔ کلاشنکوف کلچر بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ 21 آپریشن ہوئے، کیا امن قائم ہوا؟۔ افغانستان کو پھر نئی جنگ میں دھکیلا جارہا ہے۔ اگر نئی جنگ ہوتی ہے قوم اس کا حصہ نہیں ہوگی۔ فیلڈ مارشل اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں کیا ہوا، ابھی باتیں سامنے نہیں آئیں۔ نواز لیگ 10 سیٹیں جیت جائیں ہم اپنی شکست تسلیم کرلیں گے۔ پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کا کہنا تھا کہ ہمیں پنجاب میں فسطائیت کا سامنا ہے، ہم پنجاب میں جلسہ کرنا چاہتے ہیں۔ کل کا جلسہ ثابت کرے گا قوم ہمارے ساتھ ہے۔ حاکمیت عوام کے ووٹ سے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سلمان اکرم پشاور میں کے خلاف نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی