مشرق وسطی کا امن معاہدہ، فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف ٹھوس قدم
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد(خبر نگارخصوصی ) مشرق وسطی کا امن معاہدہ، فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف ایک ٹھوس قدم ہے۔ صدر ٹرمپ کے اعلان کردہ 20 نکاتی امن معاہدے کے ساتھ تمام مسلم ممالک نے بالآخر عملی اور مشترکہ قدم اٹھایا ہے تاکہ غزہ میں بے گناہ مسلمانوں کی نسل کشی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ملائیشیا، انڈونیشیا سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک، پوری مسلم دنیا نے اس تاریخی مقام تک پہنچنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔یہ پہلا اہم سنگِ میل ہے جس نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کر دی ہے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کا واضح روڈ میپ اب سامنے آ چکا ہے، جو ان شاء اللہ فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف ایک پائیدار بنیاد رکھے گا ۔اس منصوبے کے تحت اسرائیلی مظالم کو کوئی جواز نہیں دیا گیا بلکہ فلسطینی عوام کو اس ظالم حکومت کی جاری نسل کشی سے بچایا اور محفوظ کیا گیا ہے۔اس امن منصوبے پر تمام اہم اسٹیک ہولڈرز متفق ہیں۔ حماس کی اکثریت اور فلسطینی قیادت اس معاہدے کی حمایت کرتی ہے، جو اسے فلسطینی عوام کے لیے قابلِ قبول بناتی ہے ۔ چونکہ اس منصوبے میں تمام بڑے فریق شامل ہیں، اس لیے اس میں مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس سے خطے میں امن آئے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کے قیام کی
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔