data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: غزہ پر مسلط اسرائیل کی تباہ کن جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان کے پیش کردہ بیس نکاتی امن منصوبے کو قبول کرلیا ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے اس دن کو  تاریخی قرار دیا اور کہا کہ اگر حماس بھی اس پر راضی ہوجائے تو اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہے اور جنگ بندی فوراً نافذ ہوجائے گی، لیکن ساتھ ہی انہوں نے فلسطینیوں کو دھمکی دی کہ اگر 3 دن کے اندر حماس نے ان کی شرائط نہ مانیں تو اسرائیل کو طاقت کے استعمال کا حق ہوگا اور امریکا اس میں بھرپور معاونت کرے گا۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ عرب اور مسلم دنیا غزہ کو غیر عسکری زون بنانے پر متفق ہوگئی ہے، جہاں ایک عبوری انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جائے گا اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے مرحلہ وار ٹائم لائن طے کی جائے گی۔

انہوں نے  بورڈ آف پیس کے نام سے ایک بین الاقوامی ادارے کے قیام کا اعلان کیا، جس کے سربراہ وہ خود ہوں گے اور جس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر مغربی شخصیات شامل ہوں گی۔ یہ ادارہ غزہ کی تعمیر نو اور فنڈنگ کا ذمہ دار ہوگا، جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے اصلاحاتی پروگرام مکمل نہ کرلے۔

اگرچہ ٹرمپ اپنے منصوبے کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں، مگر اس حقیقت کو نظر انداز کر گئے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اب بھی فلسطین کو ایک علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔

نیتن یاہو پہلے بھی اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کے تصور کو مغربی ممالک کی پاگل پن کی سوچ قرار دے چکے ہیں۔ اس منصوبے میں بھی فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے مطالبے کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں جوبائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ سوئے رہنے والے بائیڈن کبھی غزہ کا مسئلہ حل نہیں کر پاتے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اس وقت اقتدار میں ہوتے تو یہ جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ انہوں نے اپنے منصوبے کو خطے کے امن کے لیے  بڑی پیش رفت قرار دیا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے فلسطینی عوام کو مزید بے اختیار کیا جا رہا ہے اور اسرائیل کو مزید رعایتیں مل رہی ہیں۔

یہ پیش رفت ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں امن کے نام پر ایسے معاہدے سامنے لا رہی ہیں جن میں اصل اسٹیک ہولڈر یعنی فلسطینی عوام کی آواز کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ فلسطینی ریاست کے وجود کو تسلیم کیے بغیر کسی بھی امن منصوبے کو پائیدار یا قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: منصوبے کو ریاست کے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم