لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 اکتوبر2025ء ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پنجاب کے عوام کی تذلیل کرنے والوں کو جواب دینا میرا کام ہے، اس پر کبھی معافی نہیں مانگوں گی، پنجاب کے تمام شہروں کو بند مٹھی کی طرح جوڑ کر رکھنا چاہتی ہوں، شمالی اور جنوبی پنجاب کی تفریق ڈالنے والے عوام کے دوست نہیں۔ تعلیمی بورڈز کے پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ پوزیشن ہولڈرز نے پنجاب اور پاکستان کا نام روشن کیا، جس ملک میں اتنے سارے ٹاپرز ہوں اس کو کبھی زوال نہیں آسکتا، میرے پاس پنجاب میں 50 ہزار سکول اور کروڑوں بچے پڑھتے ہیں، سب کو پتہ ہے سرکاری سکولوں میں کس طرح کی روایتی تعلیم ہوتی ہے، پرائیویٹ اور گورنمنٹ سیکٹر کے سکولوں کی تعلیم میں بہت فرق آگیا ہے، جب وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا تو کہا تھا پرائیویٹ اور گورنمنٹ سیکٹر کی تعلیم کا فرق ختم کروں گی، اس وقت پنجاب میں 80 ہزار بچے سکالرشپس پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، سمجھتی ہوں آپ کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے، سوچا تھا اچھی پرفارمنس والے طلبہ کو جدید لیپ ٹاپس دوں، بطور ماں آپ سب پوزیشن ہولڈرز پر بہت فخر ہے، ماں باپ دن رات محنت کر کے بچوں کے خواب پورے کرتے ہیں، خوشی ہے جتنا پنجاب کے بیٹوں نے پرفارم کیا اس سے بڑھ کر بیٹیوں نے بھی پرفارم کیا۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ اقلیتی برادری کے ایک بچے نے ٹاپ کیا اس کا استاد مسلمان ہے یہ ہے پاکستان، میرے لئے سب برابر ہیں، میرے سامنے کوئی تفریق نہیں، سفارش اور دھاندلی پر مکمل فل سٹاپ لگایا، جب میرٹ کو فروغ ملتا ہے تو آپ جیسے بچے سامنے آتے ہیں، پنجاب میں آج میرٹ کی پامالی نہیں ہوتی، امتحانی سینٹرز نہیں بکتے جہاں پہلے کسی سیاسی جماعت کا سفارشی یا انتظامی بندے کا پسندیدہ شخص آپ کا حق لے جاتا تھا، اب میں نے کوئی اہم تقرری کرنی ہو تو پینلز کا انٹرویو خود کرتی ہوں، ٹاسک دیا ہوا ہے کہ میرٹ پر آنے والے لوگوں کو میرے پاس بھیجیں، آپ میرٹ پر ہیں تو کسی سفارش کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے سامنے پینل بیٹھا ہو تو ایک سیکنڈ میں بتا سکتی ہوں کہ کون میرٹ پر اور کون سفارشی ہے، آج تک کسی ایک سفارشی کی حکومتی عہدے پر تقرری نہیں کی، پچھلے 4 سالہ دور حکومت میں من پسند افراد کو ٹھیکے دیئے جاتے تھے، آج میرٹ کا راستہ نہیں کھولوں گی تو کل آپ کے اوپر کوئی سفارشی آجائے گا، آج میرٹ کو اس لئے اہمیت دے رہی ہوں کہ کل آپ کیلئے مشکلات پیدا نہ ہوں، سرکاری سکول کو معیاری سکول بنانا چاہتی ہوں، چاہتی ہوں سرکاری تعلیمی ادارے میں پڑھنے والے بچے کو پرائیویٹ سے بہتر تعلیم ملے، تمام سرکاری یونیورسٹیوں کو بہتر کرنے کا ٹاسک دیا ہے، نوجوان پاکستان کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز ہیں، ہمارا فوکس نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانا ہے، پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد 65 فیصد ہے، میری 100 فیصد توجہ نوجوانوں پر ہے۔

مریم نواز کہتی ہیں کہ میں خود آ کر آپ کو سکالرشپس دیتی ہوں، میرا مقصد ہوتا ہے آپ کو احساس ہو کہ آپ کی وزیراعلیٰ نے آپ کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھالی، میں طلبہ کیلئے سینٹر آف ایکسی لینس بنا رہی ہوں، چکوال میں پہلے سینٹر آف ایکسی لینس کا افتتاح کیا وہاں 1400 بچے پڑھتے ہیں، 40 کنال رقبے پر 65 کروڑ کی لاگت سے سکول بنایا جو کسی ایچی سن کالج سے کم نہیں، ہر شہر میں اسی طرز کے سینٹر آف ایکسی لینس بنارہی ہوں، وزیرتعلیم رانا سکندر حیات کا بیٹا بھی سرکاری سکول میں جاتا ہے، کوئی ایسا وزیر دکھا دیں جس کا بیٹا سرکاری سکول میں جاتا ہو، مجھے پتہ چلا کہ غربت کی وجہ سے بچوں کی جسمانی نشوونما کم ہو رہی ہے، ہم نے 9 بلین سے سکول میل پروگرام شروع کیا، آج 10 لاکھ بچوں کو سکول میں روز دودھ کا ایک پیکٹ ملتا ہے، غریب ماں باپ چاہتے ہیں ان کے بچے سکول جائیں اور ان کو دودھ ملے، سکول میل پروگرام کو پورے پنجاب میں پھیلاؤں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ مریم نواز پورے پنجاب کی وزیراعلیٰ ہے، مریم نواز کیلئے کسی شہر کیلئے کوئی تفریق نہیں، آج ہر نیا منصوبہ پہلے چھوٹے شہروں سے شروع ہوتا ہے پھر بڑے شہروں میں جاتا ہے، شمالی اور جنوبی پنجاب کی تفریق ڈالنے والے آپ کے دوست نہیں، پنجاب کے تمام شہروں کو بند مٹھی کی طرح جوڑ کر رکھنا چاہتی ہوں، الیکٹرک بسیں میانوالی سے شروع کیں، الیکٹرک بسیں پہلے چھوٹے شہروں کو دیں اب بڑے شہروں میں جا رہی ہیں، آج اپنا گھر سکیم کے تحت پورے پنجاب میں 90 ہزار گھر بن رہے ہیں، پورا پنجاب میری اولاد کی طرح ہے جس کو جوڑ کر رکھنا چاہتی ہوں، انگریزی زبان ضرور سیکھنی چاہیے، انگریزی سے زیادہ توجہ قومی زبان پر دینی چاہیے، آپ کو فخر ہونا چاہیے کہ ہم اردو بولتے ہیں۔ ا.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سرکاری سکول چاہتی ہوں مریم نواز پنجاب کے نے والے

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف