پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں بہتری ریکارڈ، ٹاپ 100 میں شامل ہو کر 96 ویں نمبر پر آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی ) رواں سال ہنلی پاسپورٹ انڈیکس 2025 میں پاکستانی پاسپورٹ ٹاپ 100 میں شامل ہو کر 96 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان پاسپورٹ کی درجہ بندی میں اس بہتری کو اپنے حالیہ اقدامات کا نتیجہ قرار د یتی ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق پاکستان نے 2025 تک 50 ممالک کے ساتھ ڈپلومیٹک اور آفیشل پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا فری معاہدے کئے ہیں، جب کہ مزید ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے زیرِ غور ہیں۔اسی طرح گرین پاسپورٹ کے حوالے سے بھی اب تک پاکستان کے 22 ممالک کے ساتھ معاہدے ہو چکے ہیں، جن کے تحت پاکستانی شہری ان ممالک کی شہریت بھی رکھ سکتے ہیں۔وزارتِ داخلہ کے مطابق پاسپورٹ کے معیار کو بہتر بنانے اور اس کے حصول کا عمل آسان بنانے کیلئے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے مثبت اثرات پاکستان کی عالمی پاسپورٹ رینکنگ پر مرتب ہوئے ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے پاکستانی پاسپورٹ کو مزید محفوظ اور معیاری بنانے کے لیے جدید ای پاسپورٹ متعارف کرایا ہے۔علاوہ ازیں، مشین ریڈایبل پاسپورٹ کے سکیورٹی فیچرز کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے تاکہ جعلی پاسپورٹ بنانے کے عمل کا سدِباب کیا جا سکے جس سے رینکنگ میں بہتری آئی ہے۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کو بتدریج ای پاسپورٹ میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ اسے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے معیار سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ یہ تبدیلی قومی اور بین الاقوامی سطح پر ای گیٹ سہولت کے موثر استعمال کی راہ ہموار کرے گی۔
علاوہ ازیں ای پاسپورٹ میں جدید پولی کاربونیٹ ڈیٹا پیج مائیکروچپ شامل ہے جس میں پاسپورٹ ہولڈر کی بایومیٹرک معلومات محفوظ کی جاتی ہیں جبکہ اس میں خصوصی سکیورٹی فیچرز بھی دئیے گئے ہیں تاکہ جعل سازی کو روکا جا سکے۔محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے مطابق ایک نئی پاسپورٹ بک لیٹ تیار کی جا رہی ہے جس میں جدید سکیورٹی فیچرز شامل ہوں گے۔ اس میں لیزر انگریونگ ڈیٹا، محفوظ الیکٹرانک چِپس جو آئی سی اے او کے معیار کے مطابق ہوں گی، ویزا صفحات پر پاکستان کی تاریخی یادگاروں کی تصاویر اور نیا IPI جورا فیچر(حفاظتی فیچر) شامل ہوگا۔علاوہ ازیں، پاسپورٹ ہولڈر کی والدہ کا نام بھی حفاظتی لائنز میں درج کیا جائے گا تاکہ پاسپورٹ مزید محفوظ بنایا جا سکے۔محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے مطابق اب پاکستانی شہری برطانیہ، فرانس، اٹلی، بیلجیئم، آئس لینڈ اور آسٹریلیا کی شہریت کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ، کینیڈا، فن لینڈ، مصر، اردن، شام اور سوئٹزرلینڈ کی شہریت بھی برقرار رکھ سکیں گے۔مزید برآں پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت نیدرلینڈز، امریکہ، سویڈن، آئرلینڈ، بحرین، ڈنمارک، جرمنی، ناروے اور لکسمبرگ کی شہریت بھی حاصل کرنے کی اجازت ہے اور ان تمام ممالک کی شہریت اختیار کرنے والے پاکستانیوں کو اپنی پاکستانی شہریت ترک نہیں کرنا پڑے گی
۔محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے دوہری شہریت رکھنے کے حوالے سے فرانس، اٹلی، بیلجیئم، آئس لینڈ، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، مصر، اردن، شام اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔علاوہ ازیں نیدرلینڈز، سویڈن، آئرلینڈ، بحرین، ڈنمارک، جرمنی، ناروے اور لکسمبرگ کے ساتھ بھی یہ معاہدہ کیا گیا ہے۔ماضی میں پاکستانی شہری ان ممالک کی شہریت رکھنے کی صورت میں پاکستانی شہریت سے محروم ہو جاتے تھے۔ تاہم نئے معاہدوں کے بعد پاکستانی شہریوں پر کسی ایسی پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا۔ان 22 ممالک میں سے برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے ساتھ پاکستان کا دہری شہریت کے حوالے سے پہلے سے معاہدہ موجود تھا۔ان ممالک کے علاوہ حکومتِ پاکستان نے ترکیہ کے ساتھ بھی دوہری شہریت کا معاہدہ کرنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔حکام کے مطابق ترکیہ نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ دونوں ممالک کے شہریوں کو ایک ساتھ دونوں شہریتیں رکھنے کی سہولت دی جائے۔اس تجویز کا مسودہ تیار ہو رہا ہے اور وزارتِ داخلہ و وزارتِ خارجہ اس پر غور کر رہی ہیں۔ یہ معاہدہ اگر حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو ترکی بھی اس فہرست میں شامل ہو جائے گا۔
پنجاب حکومت نے سی سی ڈی کو جدید گاڑیوں کی فراہمی کیلئے 2 ارب روپے جاری کر دئیے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں