اسلام آباد (آئی این پی )  رواں سال ہنلی پاسپورٹ انڈیکس 2025 میں پاکستانی پاسپورٹ ٹاپ 100 میں شامل ہو کر 96 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان    پاسپورٹ کی درجہ بندی میں اس بہتری کو اپنے حالیہ اقدامات کا نتیجہ قرار  د یتی ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق پاکستان نے 2025 تک 50 ممالک کے ساتھ ڈپلومیٹک اور آفیشل پاسپورٹ ہولڈرز  کیلئے ویزا فری معاہدے  کئے ہیں، جب کہ مزید ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے زیرِ غور ہیں۔اسی طرح گرین پاسپورٹ کے حوالے سے بھی اب تک پاکستان کے 22 ممالک کے ساتھ معاہدے ہو چکے ہیں، جن کے تحت پاکستانی شہری ان ممالک کی شہریت بھی رکھ سکتے ہیں۔وزارتِ داخلہ کے مطابق پاسپورٹ کے معیار کو بہتر بنانے اور اس کے حصول کا عمل آسان بنانے  کیلئے  بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے مثبت اثرات پاکستان کی عالمی پاسپورٹ رینکنگ پر مرتب ہوئے ہیں۔ 
وزارتِ داخلہ کے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے پاکستانی پاسپورٹ کو مزید محفوظ اور معیاری بنانے کے لیے جدید ای پاسپورٹ متعارف کرایا ہے۔علاوہ ازیں، مشین ریڈایبل پاسپورٹ کے سکیورٹی فیچرز کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے تاکہ جعلی پاسپورٹ بنانے کے عمل کا سدِباب کیا جا سکے جس سے رینکنگ میں بہتری آئی ہے۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کو بتدریج ای پاسپورٹ میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ اسے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کے معیار سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ یہ تبدیلی قومی اور بین الاقوامی سطح پر ای گیٹ سہولت کے موثر استعمال کی راہ ہموار کرے گی۔
علاوہ ازیں ای پاسپورٹ میں جدید پولی کاربونیٹ ڈیٹا پیج مائیکروچپ شامل ہے جس میں پاسپورٹ ہولڈر کی بایومیٹرک معلومات محفوظ کی جاتی ہیں جبکہ اس میں خصوصی سکیورٹی فیچرز بھی دئیے گئے ہیں تاکہ جعل سازی کو روکا جا سکے۔محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے مطابق ایک نئی پاسپورٹ بک لیٹ تیار کی جا رہی ہے جس میں جدید سکیورٹی فیچرز شامل ہوں گے۔ اس میں لیزر انگریونگ ڈیٹا، محفوظ الیکٹرانک چِپس جو آئی سی اے او کے معیار کے مطابق ہوں گی، ویزا صفحات پر پاکستان کی تاریخی یادگاروں کی تصاویر اور نیا IPI جورا فیچر(حفاظتی فیچر)  شامل ہوگا۔علاوہ ازیں، پاسپورٹ ہولڈر کی والدہ کا نام بھی حفاظتی لائنز میں درج کیا جائے گا تاکہ پاسپورٹ مزید محفوظ بنایا جا سکے۔محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے مطابق اب پاکستانی شہری برطانیہ، فرانس، اٹلی، بیلجیئم، آئس لینڈ اور آسٹریلیا کی شہریت کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ، کینیڈا، فن لینڈ، مصر، اردن، شام اور سوئٹزرلینڈ کی شہریت بھی برقرار رکھ سکیں گے۔مزید برآں پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت نیدرلینڈز، امریکہ، سویڈن، آئرلینڈ، بحرین، ڈنمارک، جرمنی، ناروے اور لکسمبرگ کی شہریت بھی حاصل کرنے کی اجازت ہے اور ان تمام ممالک کی شہریت اختیار کرنے والے پاکستانیوں کو اپنی پاکستانی شہریت ترک نہیں کرنا پڑے گی
۔محکمہ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے دوہری شہریت رکھنے کے حوالے سے فرانس، اٹلی، بیلجیئم، آئس لینڈ، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، مصر، اردن، شام اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔علاوہ ازیں نیدرلینڈز، سویڈن، آئرلینڈ، بحرین، ڈنمارک، جرمنی، ناروے اور لکسمبرگ کے ساتھ بھی یہ معاہدہ کیا گیا ہے۔ماضی میں پاکستانی شہری ان ممالک کی شہریت رکھنے کی صورت میں پاکستانی شہریت سے محروم ہو جاتے تھے۔ تاہم نئے معاہدوں کے بعد پاکستانی شہریوں پر کسی ایسی پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا۔ان 22 ممالک میں سے برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے ساتھ پاکستان کا دہری شہریت کے حوالے سے پہلے سے معاہدہ موجود تھا۔ان ممالک کے علاوہ حکومتِ پاکستان نے ترکیہ کے ساتھ بھی دوہری شہریت کا معاہدہ کرنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔حکام کے مطابق ترکیہ نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ دونوں ممالک کے شہریوں کو ایک ساتھ دونوں شہریتیں رکھنے کی سہولت دی جائے۔اس تجویز کا مسودہ تیار ہو رہا ہے اور وزارتِ داخلہ و وزارتِ خارجہ اس پر غور کر رہی ہیں۔ یہ معاہدہ اگر حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو ترکی بھی اس فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

پنجاب حکومت نے سی سی ڈی کو جدید گاڑیوں کی فراہمی کیلئے 2 ارب روپے جاری کر دئیے

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا