بھارت کی ہندو قیادت کا چھوٹا پن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت کا جغرافیہ اور آبادی ہاتھی کی طرح ہے مگر بھارت کی ہندو قیادت کا دل، دماغ اور ظرف چیونٹی کی طرح ہے۔ چنانچہ بھارت کی ہندو قیادت نے سیاست کو کھیل اور کھیل کو سیاست بنادیا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ کرکٹ کا ایشیا کپ پاکستان میں ہونا تھا مگر بھارت نے اعلان کردیا کہ اس کی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی۔ چنانچہ ایشیا کپ کو دبئی منتقل کرنا پڑا، لیکن بھارت کی ہندو قیادت یہاں بھی چھوٹے پن سے باز نہ آئی، چنانچہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ حد یہ کہ بھارت نے ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد پاکستان کے وزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ کے کرتا دھرتا محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کردیا۔ سرد جنگ کے زمانے میں مغربی دنیا اور سوویت یونین کے درمیان شدید ترین محاذ آرائی موجود تھی لیکن مغربی دنیا میں اولمپک مقابلے ہوتے تھے تو سوویت کھلاڑی اولمپک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ لیکن بھارت کی ہندو قیادت کا چھوٹا پن کھیل میں بھی سیاست لے آیا ہے۔ بھارت کو پاکستان سے ایسی ہی نفرت ہے تو اسے ایشیا کپ کے مقابلوں میں حصہ ہی نہیں لینا چاہیے تھا۔
بعض پاکستانیوں کا خیال یہ ہے کہ بھارت کی ہندو قیادت کا چھوٹا پن صرف بی جے پی کی قیادت کے ساتھ مخصوص ہے لیکن ایسا نہیں ہے بھارت کی ہندو قیادت ڈیڑھ سو سال سے ہر مرحلے پر چھوٹے پن کا مظاہرہ کررہی ہے۔ موہن داس کرم چند گاندھی سے بڑا رہنما ہندوستان نے پیدا نہیں کیا مگر گاندھی کے زمانے میں ہندو ’’شدھی‘‘ کی تحریک چلائے ہوئے تھے۔ اس تحریک کے تحت غریب مسلمانوں کو پیسے کا لالچ دے کر ہندو بنایا جارہا تھا اور ان سے کہا جارہا تھا کہ تم کبھی ہندو ہی تھے۔ تم برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے بعد مسلمان ہوئے۔ چنانچہ تم ایک بار پھر ’’پاک‘‘ یا ’’شدھ‘‘ ہو کر دوبارہ ہندو ازم کا حصہ بن جائو۔ گاندھی شدھی کی اس تحریک سے پوری طرح آگاہ تھے۔ مگر انہوں نے کبھی ہندوئوں سے یہ
نہیں کہا کہ تم مسلمانوں کو لالچ دے کر اور دبائو ڈال کر کیوں ہندو بنارہے ہو۔ مولانا محمد علی جوہر اس پوری صورت حال سے آگاہ تھے اور وہ اپنے اخبار کامریڈ میں گاندھی سے چیخ چیخ کر پوچھ رہے تھے کہ آپ مسلمانوں کو زبرستی ہندو بنانے کی مہم کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ منشی پریم چند اردو افسانے کے بنیاد گزار تھے۔ ان کا افسانہ عیدگاہ معرکہ آرا اور اردو کے دس بڑے افسانوں میں سے ایک ہے۔ اس افسانہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پریم چند اسلام اور اسلامی تہذیب سے بے انتہا متاثر تھے مگر پریم چند گاندھی کے زیر اثر آگئے تو انہوں نے اردو میں افسانے اور ناول لکھنا ترک کردیا اور وہ ہندی میں افسانے اور ناول لکھنے لگے۔ حالانکہ اردو اور ہندی کا باہمی تعلق یہ ہے کہ اردو کا 30 فی صد ذخیرۂ الفاظ ہندی سے آیا ہے اور مسلمانوں نے ہندی کے اس ذخیرۂ الفاظ کو ہمیشہ سینے سے لگا کر رکھا ہے اور کبھی اس ذخیرۂ الفاظ سے تعصب نہیں برتا۔ گاندھی کے مسلمانوں سے تعصب برتنے کی ایک اور بڑی مثال یہ ہے کہ نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت نے ایک مسلمان سے شادی کرلی تھی۔ گاندھی کو اس کی اطلاع ملی تو وہ بہت ناراض ہوئے، انہوں نے وجے لکشمی پنڈت کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ تمہیں کروڑوں ہندو نوجوانوں میں ایک بھی اس قابل نہیں لگا کہ تم اس سے شادی کرو۔ تمہیں پسند آیا تو ایک مسلمان۔ گاندھی وجے لکشمی پنڈت کو سخت سست کہہ کر نہیں رہ گئے۔ انہوں نے ان کی شادی ختم کرادی۔
بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو ایک سیکولر انسان تھے۔ اردو ان کے اپنے الفاظ میں ان کی مادری زبان تھی۔ درجنوں مسلمانوں سے نہرو کی دوستیاں تھیں مگر 1947ء میں جب ہندوستان میں مسلم کش فسادات شروع ہوئے اور ان فسادات نے دہلی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تو مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک دن نہرو سے کہا کہ دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ چنانچہ آپ کو اس سلسلے میں فوراً کچھ کرنا چاہیے۔ نہرو نے کہا تو صرف یہ کہ میں وزیر داخلہ سردار پٹیل سے کئی بار کہہ چکا ہوں کہ وہ مسلم کش فسادات کو روکیں مگر وہ میری بات ہی نہیں سنتے۔ نہرو گاندھی کے بعد کانگریس کی اہم ترین شخصیت تھے، وہ بھارت کے وزیراعظم تھے، یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ وزیرداخلہ سے کچھ کہیں اور وزیر داخلہ ان کی بات نہ مانے۔
پاکستان ایک پرامن جدوجہد کا حاصل تھا، چنانچہ اس کی تخلیق کو بھی پرامن ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ہندو قیادت نے تخلیق پاکستان کو خون آشام بنادیا۔ قیام پاکستان کے بعد ہونے والے فسادات میں 10 لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے۔ ہزاروں مسلمان خواتین اغوا ہوئیں، یہاں تک بھارت نے پاکستان کے حصے کے اثاثے روک لیے۔ یہ عمل اتنا ہولناک اور شرمناک تھا کہ گاندھی کو اس پر شرم آگئی اور انہوں نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کردی۔ چنانچہ بھارتی حکومت کو پاکستان کے حصے کی رقم جاری کرنی پڑ گئی۔
1970ء میں مشرقی پاکستان کے اندر جو سیاسی بحران پیدا ہوا وہ پاکستان کا ’’داخلی معاملہ‘‘ تھا مگر اندرا گاندھی نے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں فوج داخل کردی۔ چنانچہ 16 دسمبر 1971ء کو پاکستان دولخت ہوگیا۔ یہ بھارت کی ایک بہت ہی بڑی کامیابی تھی اور بھارت کی قیادت اس پر جتنا خوش ہوتی کم تھا، مگر اندرا گاندھی صرف مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنا کر خوش نہیں ہوئیں۔ انہوں نے قوم سے خطاب فرمایا اور کہا کہ آج ہم نے (مسلمانوں سے) ایک ہزار سال کی تاریخ کا بدلہ لے لیا ہے اور ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کردیا ہے۔ اندرا گاندھی کے اس بیان سے ثابت ہوا کہ ہندو قیادت کا مسئلہ صرف پاکستان نہیں اسلام بھی ہے۔ ہندو قیادت صرف پاکستان کو نیست و نابود نہیں کرنا چاہتی وہ اسلام کو بھی صفحہ ہستی سے مٹادینے کا خواب دیکھتی ہے۔
بابری مسجد 1992ء میں شہید کی گئی۔ اس وقت بھارت پر بی جے پی کی نہیں کانگریس کی حکومت تھی۔ اس وقت کانگریس کے نرسہمارائو ملک کے وزیر اعظم تھے۔ وہ بابری مسجد کے اطراف میں 20 ہزار پولیس والے تعینات کردیتے تو بابری مسجد کی شہادت کو روکا جاسکتا تھا۔ لیکن بابری مسجد کی شہادت کے پورے دن نرسہما رائو سوتے رہے اور ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد شہید کردی۔
بھارت کے ڈاکٹر ذاکر نائک کا تعلق کسی ’’اتنہا پسند‘‘ تنظیم سے نہیں ہے۔ وہ کھلے عام مکالمے کے قائل ہیں۔ وہ اپنے علم سے مذاہب عالم کی مماثلتوں اور امتیازات کو عیاں کرتے ہیں۔ ان کی فکر سے متاثر ہو کر سہکڑوں ہندو مسلمان ہوئے ہیں۔ مگر بھارت کی کم ظرف ہندو قیادت انہیں بھی برداشت نہ کرسکی۔ ہندو قیادت نے ذاکر نائک پر بھی انتہا پسندی کا الزام لگادیا اور ذاکر نائک کو ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ بھارت کے ہندوئوں کی آبادی ایک ارب 15 کروڑ ہے مگر بھارت کی اتنی بڑی آبادی ڈاکٹر ذاکر کا علمی مقابلہ نہ کرسکی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آخر بھارت کی ہندو قیادت کے چھوٹے پن کے اسباب کیا ہیں؟
بھارت کی ہندو اکثریت 1200 سال سے غلام چلی آرہی ہے۔ وہ ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی اور 200 سال تک انگریزوں کی غلام رہی۔ انسان غلامی کو قبول کرلے تو اس کی ہر چیز چھوٹی ہوجاتی ہے۔ دل و دماغ اور ظرف بھی۔ چنانچہ ہندو قیادت کے چھوٹے پن کی ایک وجہ غلامی ہے۔ ہندو قیادت کے چھوٹے پن کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہندو ازم ایک جغرافیائی حقیقت ہے۔ اس میں اسلام جیسی آفاقیت نہیں ہے۔ ’’مقامیت‘‘ کی پوجا قوموں کی ہر چیز کو چھوٹا کردیتی ہے جو مذہب ذات پات کے تعصب کا شکار ہو کر اپنے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرسکے وہ ’’غیروں‘‘ کے ساتھ اچھا سلوک کیسے کرے گا؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت کی ہندو قیادت کا نے پاکستان پاکستان کو پاکستان کے مگر بھارت گاندھی کے بھارت کے ایشیا کپ چھوٹے پن انہوں نے قیادت کے یہ ہے کہ کے ساتھ ہے اور کہا کہ کے بعد
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔