ٹنڈوجام،پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ،عوام مشکلات کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251003-2-1
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ملک بھر کے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے شہری اس فیصلے کے بعد مزید پریشانی میں مبتلا ہو گئے تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے آٹے، چینی گھی سبزیوں اور پھلوں سمیت روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی پہلے ہی کئی بار اضافہ کیا جا چکا تھا تاہم اب پیٹرول کی نئی قیمتوں کے اعلان کے بعدانھوں نے بھی اپنے کرایوں میں دس سے بیس روپے اضافہ کردیا ہے جب کہ رکشا ڈائیور منی بس والوں نے بھی اپنے کرایوں میں اضافہ کردیا ہے اور خدشہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش، سبزی اور پھل بھی مہنگے ہو جائیں گے جس کا براہ راست اثر غریب اور دیہاڑی دار طبقے پر پڑے گاکونسلر طاہراسامہ کا کہنا ہے کہ کہ عام آدمی پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان تھا لیکن اب پیٹرول مہنگا ہونے سے مہنگائی کا طوفان آ جائے گا جس سے متوسط طبقے کی زندگی بھی اجیرن ہو جائے گی انھوں نے کہا افسوسناک بات یہ ہے کہ حکمران اپنی عیا شیاں ختم کرنے پر تیار نہیں اپنا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیتے ہیں انجمن تاجران ٹنڈوجام کے فنانس سیکرٹری راو حامد گوہر نے کہا کہ تنخواہیں اور مزدور کی اجرتیں وہی ہیں اور اب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کٹوتی کی جارہی جس پر وہ سراپا احتجاج ہیں کیونکہ اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں لیکن اس باوجود حکومت مسائل کم کرنے بجائے بڑھاتی جارہی جس کے منفی اثرات ہمارے کاروبار پر پڑ رہے ہیں ماہرین معاشیات اختر رضوی کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ بجلی، گیس اور دیگر پیداواری شعبوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جس سے مجموعی طور پر مہنگائی میں اضافہ ناگزیر ہے عوام نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ غریب اور دیہاڑی دار مزدور سکھ کا سانس لے سکیںاور عزت کے ساتھ اپنی زندگی گزار سیکں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں میں اضافہ
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔