data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251003-01-19

لاہور (نمائندہ جسارت)حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے بزدلانہ اور سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ عالمی قوانین اور انسانی ضمیر کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلح امدادی کارکنوں کو گرفتار کرنا اور محصور فلسطینیوں تک دوا، غذا اور پانی نہ پہنچنے دینا، اسرائیل کی کھلی ریاستی دہشت گردی ہے۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ فلسطینی عوام پچھلے کئی ماہ سے بدترین انسانی المیے سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف زخمی بچوں کا خون اور بھوک و پیاس سے مرنے والے عوام ہیں، دوسری جانب امن پسند افراد دنیا بھر سے امدادی سامان لے کر اہلِ غزہ کی مدد کو بڑھ رہے ہیں لیکن اسرائیل ان پر بھی ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “کیا انسانی حقوق، جمہوریت اور بین الاقوامی قوانین کا مطلب صرف طاقتور کے مفادات کا تحفظ ہے؟ صمود فلوٹیلا پر حملہ عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر رہا ہے۔”انہوں نے امریکی کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن کے علمبردار بننے والے امریکا کا پول کھل گیا ہے۔ اسرائیل آج امدادی قافلوں پر بم برسا رہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مسلم دنیا کے حکمرانوں کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محض زبانی مذمتیں کافی نہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم حکمران عملی کردار ادا کریں اور غزہ کے مظلوم عوام کو بچانے کے لیے حقیقی اقدامات کریں۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی دہشت گردی کا فوری نوٹس لیں اور صمود فلوٹیلا سمیت امدادی قافلوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنا صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا فرض ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے اہلِ غزہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس ہفتے کے دوران لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں غزہ ملین مارچ منعقد کیے جائیں گے، جبکہ ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں پرامن مظاہرے جاری رہیں گے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستانی قوم فلسطینی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔علاوہ ازیں حلقہ خواتین کی ڈپٹی سیکرٹریز ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈاکٹر زبیدہ جبیں، عفت سجاد، عائشہ سید، عطیہ نثار اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے بھی صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر حمیرا طارق صمود فلوٹیلا کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔

گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔

سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔

فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔

شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔

دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔

اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔

زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔

ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔

اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟