data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر(نمائندہ جسارت) سکھر میں سیپکو کی طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، اوور بلنگ ، ناجائز ڈیڈکشن کیخلاف سکھر ڈویلپمنٹ الائنس، سکھر اسمال ٹریڈرز کی جانب سے احتجاجی ریلی ، زیر اہتمام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور دیگر مظالم کے خلاف گولڈ سینٹر صرافہ بازار سے گھنٹہ چوک تک ایس ڈی اے چیئرمین ، سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن اور دیگر رہنمائوں کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی،عوام اور تاجر برادری نے سیپکو کے خلاف بھرپور نعرے بازی بھی کی۔ گھنٹہ گھر چوک پر احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حاجی محمد جاوید میمن و دیگر رہنمائوں کا کہنا تھا کہ سیپکو سکھرکی عوام کا ادارہ ہے لیکن یہ عوام پر ہی ظلم و ستم کے پہاڑ گرا رہا ہے، ایکسپریس ایریاز کے اندر 6 سے 8 گھنٹے اور سائیڈ کے علاقوں میں 16سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے بلوں میں ناجائز ڈیڈکشن لگائی جا رہی ہیں، بجلی ویسے ہی مہنگی ہے لیکن عوام کو ایکسٹرا بلنگ سے اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوڈشیڈنگ سے کاروبار زندگی تباہ و برباد ہوچکا ہے ، عوام لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں گھروں میں چھوٹے بچے اور خواتین لوڈشیڈنگ سے دہرے عذاب میں مبتلا ہیں، سیپکو افسران سب اچھا کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن عوام کو اور تاجر برادری کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، بجلی چوری میں سیپکو افسران اور اہلکاروں کی آشیرباد شامل ہوتی ہے اور اس کا خمیازہ بل بھرنے والے صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ بوگس میٹر لگا کر عوام سے ماہانہ وصول کیا جا رہا ہے جس سے سیپکو کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ٹرانسفرامرز پر اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے ٹرانسفارمر پھٹ جاتے ہیں جس کیلئے بھی عوام سے بھتا وصول کیا جاتا ہے کہ سیپکو ایک منافع بخش ادارہ ہے لیکن اس میں موجود کالی بھیڑوں نے کرپٹ ادارہ بنا دیا ہے ، ڈائریکٹرز آف بورڈ میں سیاسی بنیادوں پر رکھے گئے ممبران اپنے ذاتی مقاصد تو حاصل کر رہے ہیں لیکن عوام کو ریلیف نہیں مل رہا۔ آج کا احتجاج ایک آغاز ہے اگر سیپکو نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تواحتجاجی تحریک کو بڑھاتے ہوئے ان کے دفاتر کے باہر دھرنے دیے جائیں گے اور کرپٹ افسران کا بھی گھیرائو کیا جائے گا۔ احتجاجی ریلی میں سکھر ڈیویلپمنٹ الائنس، سکھر اسمال ٹریڈرز کے رہنمائوں غلام مصطفی پھلپوٹو،حاجی غلام شبیر بھٹو، محمد عامر فاروقی، علامہ نور احمد قاسمی، آغا طاہر مغل، عیدن جاگیرانی،بابو فاروقی، شہزادو بھٹو، بابو مہر، محمد رضوان قادری، شاہ محمد انڈھڑ، عبدالباری انصاری، طارق علی میرانی، محمد منیر بھٹی، آغا محمد اکرم درانی، ڈاکٹر سعید اعوان، نثار خان، سلیم جاگیرانی، سید عمیر شاہ، محمد شعیب میمن، رشید ہدایت اللہ، عتیق اللہ سومرو، جاوید میمن، محمد فاروق میمن، وقاص بدر، دلشاد میمن، حاجی محمد علی، ابوبکر، جاوید قادری، ریاض، وکی میمن، محمد عاصم فاروقی، محمد اکرم، راشد صدیقی، محمد عرفان، محمد فیصل، محمد ناظم،محمد شہزاد، الیاس،خالد سومرو سمیت تاجروں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسمال ٹریڈرز احتجاجی ریلی

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن