جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ کا اہم اجلاس، اجتماع عام کی تیاریوں کاجائزہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوآدم( نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ کا اہم اجلاس کل پاکستان اجتماع عام اور گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کے ملک گیر احتجاج کی کال پر المرکز اسلامی شہدادپور میں نائب امیر جماعت سندھ محمد افضال آرائیں کی زیرصدارت منعقد ہوا ۔امیرضلع رفیق منصوری، قیم جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ ارشد علی اور نائب امیر سید ارشاد ظفر بخاری و دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی سندھ محمد افضال آرائیں اور ضلعی امیر محمد رفیق منصوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا کے نام نہاد انسانی حقوق کے ادارے بخوبی واقف ہیں کہ اسرائیل نبیوں کی سر زمین اور قبلہ اول کے وارثوں فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے اور غزہ کے مسلمانوں کے قتل عام میں امریکا اسرائیل کی مکمل سرپرستی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا میں دنیا کے کئی ممالک کے نہتے اور امن پسند لوگ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کیلئے خوراک و ادویات لے کر جارہے تھے کہ اسرائیل نے اس قافلے پر بھی حملہ کردیا اور اور وفد کے لوگوں کو گرفتار کرلیا ہم اسرائیل کی درندگی کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا نام نہاد امن معاہدہ فلسطینی مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے فلسطین انبیاکی سرزمین ہے اور اسرائیل ناپاک و ناجائز ریاست ہے پاکستانی قوم حکمرانوں کے بہکاوے میں نہیں آئے گی بلکہ فلسطینی مسلمانوں کی توقعات اور آزادی کے برعکس کسی معاہدے کو قبول نہیں کریگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی مسلمانوں کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔