کراچی: جناح اسپتال کے قریب فائرنگ، خاتون جاں بحق، ایک شخص زخمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
جناح اسپتال کے قریب نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کی زد میں آکر ایک خاتون جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والے شخص کی شناخت رزاق کے نام سے ہوئی ہے، پولیس کے مطابق جاں بحق خاتون کی شناخت 50 سالہ فہمیدہ زوجہ ظفر اقبال کے نام سے ہوئی، جو اپنی زیر علاج بیٹی کی عیادت کے لیے جناح اسپتال آئی تھیں۔
واقعے کے وقت وہ جناح اسپتال کی دوسری منزل پر واقعے گائنی وارڈ کے باہر چہل قدمی کر رہی تھیں کہ اچانک نامعلوم سمت سے آنے والی گولی ان کے سینے میں جا لگی، جسکے نتیجے میں خاتون شدید زخمی ہوئی اور جناح اسپتال کے ہی ایمرجنسی وارڈ میں دوران علاج دم توڑ گئیں۔
ایس ایچ او تھانہ صدر نے بتایا کہ اسپتال کے باہر دو مسلح افراد آپس میں فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہورہے تھے، اسی دوران ایک گولی خاتون کو لگی جبکہ دوسرا مزدور رزاق بھی زخموں کا شکار ہوگیا۔ جو واقعے کے وقت چائے پینے ہوٹل کی طرف جا رہا تھا۔
جاں بحق خاتون کے داماد رب نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ ملیر 15 کے علاقے الابراہیم سوسائٹی فیز 2 کی رہائشی تھیں جن کا آبائی تعلق رحیم یار خان سے تھا۔
متوفیہ اپنی بیٹی کی عیادت کے لیے آئی تھیں، فہمیدہ نے گزشتہ روز ہی بیٹی کو گائنی وارڈ میں داخل کیا تھا، رشتے دار خدا بخش نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ فہمیدہ جلد عمرے پر جانے والی تھیں لیکن قسمت نے انہیں مہلت نہ دی۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ نہایت افسوسناک واقعہ ہے، سمجھ نہیں آتا شکوہ کس سے کریں۔ پولیس نے مفرور ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے جبکہ جناح اسپتال کے باہر سے خول کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جناح اسپتال کے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔