’ریاض پڑھ رہا ہے‘ کتب میلہ علم و ادب کے متوالوں کی توجہ کا مرکز
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
2025 کا ریاض بین الاقوامی کتب میلہ، جو ادب اتھارٹی برائے اشاعت وترجمہ کے زیرِ اہتمام ’ریاض پڑھ رہا ہے‘ کے عنوان سے جاری ہے، اپنے دوسرے روز بھی علم وادب کے متوالوں کی توجہ کا مرکز رہا۔
میلہ جامعہ امیرہ نوره میں منعقد کیا جارہا ہے جہاں کتابوں کے شائقین، طلبہ، محققین اور اہلِ قلم بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ علمی و ثقافتی رنگوں سے مزین یہ میلہ علم و فن کے متنوع پہلوؤں کو ایک ہی جگہ سموئے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مدینہ منورہ میں بین الاقوامی کتب میلہ، دلچسپی کا مرکز بن گیا
انتظامیہ نے زائرین کے لیے مفت بس سروس فراہم کی ہے، جب کہ ریلوے اسٹیشن سے جامعہ تک ٹیکسی کا کرایہ اوسطاً 25 ریال ہے، جس کے بعد قریباً 10 منٹ پیدل فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔
کتب میلہ 11 اکتوبر تک جاری رہے گا، اور اس میں 25 سے زیادہ ممالک کے 2 ہزار سے زیادہ اشاعتی ادارے، ایجنسیاں اور ثقافتی تنظیمیں شریک ہیں۔
یہ میلہ فکری وادبی تبادلے کا ایک نمایاں پلیٹ فارم بن چکا ہے، جو مملکت سمیت دنیا بھر کے ادیبوں، مفکرین اور ناشرین کو ایک جگہ جمع کررہا ہے۔
میلے کے دوران 200 سے زیادہ فکری وثقافتی سرگرمیاں ترتیب دی گئی ہیں جن میں مذاکرے، مکالماتی نشستیں، محاضرات، مشاعرے اور ورکشاپس شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کتب میلے میں کتابوں سے زیادہ کھانے کی فروخت، خالد انعم نے معافی کیوں مانگی؟
کتب میلہ روزانہ صبح 11 بجے سے نصف شب تک عوام کے لیے کھلا رہتا ہے، جبکہ جمعہ کو دوپہر 2 بجے سے رات 12 بجے تک کھلا ہوتا ہے۔ زائرین کے لیے یہ میلہ علم، ادب اور تخلیقی تجربے کا حسین امتزاج پیش کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews توجہ کا مرکز ریاض زائرین شائقین علم و ادب کتب میل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: توجہ کا مرکز ریاض کتب میل وی نیوز کتب میلہ سے زیادہ کا مرکز کے لیے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔