2025 کا ریاض بین الاقوامی کتب میلہ، جو ادب اتھارٹی برائے اشاعت وترجمہ کے زیرِ اہتمام ’ریاض پڑھ رہا ہے‘ کے عنوان سے جاری ہے، اپنے دوسرے روز بھی علم وادب کے متوالوں کی توجہ کا مرکز رہا۔

میلہ جامعہ امیرہ نوره میں منعقد کیا جارہا ہے جہاں کتابوں کے شائقین، طلبہ، محققین اور اہلِ قلم بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ علمی و ثقافتی رنگوں سے مزین یہ میلہ علم و فن کے متنوع پہلوؤں کو ایک ہی جگہ سموئے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مدینہ منورہ میں بین الاقوامی کتب میلہ، دلچسپی کا مرکز بن گیا

انتظامیہ نے زائرین کے لیے مفت بس سروس فراہم کی ہے، جب کہ ریلوے اسٹیشن سے جامعہ تک ٹیکسی کا کرایہ اوسطاً 25 ریال ہے، جس کے بعد قریباً 10 منٹ پیدل فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔

کتب میلہ 11 اکتوبر تک جاری رہے گا، اور اس میں 25 سے زیادہ ممالک کے 2 ہزار سے زیادہ اشاعتی ادارے، ایجنسیاں اور ثقافتی تنظیمیں شریک ہیں۔

یہ میلہ فکری وادبی تبادلے کا ایک نمایاں پلیٹ فارم بن چکا ہے، جو مملکت سمیت دنیا بھر کے ادیبوں، مفکرین اور ناشرین کو ایک جگہ جمع کررہا ہے۔

میلے کے دوران 200 سے زیادہ فکری وثقافتی سرگرمیاں ترتیب دی گئی ہیں جن میں مذاکرے، مکالماتی نشستیں، محاضرات، مشاعرے اور ورکشاپس شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور کتب میلے میں کتابوں سے زیادہ کھانے کی فروخت، خالد انعم نے معافی کیوں مانگی؟

کتب میلہ روزانہ صبح 11 بجے سے نصف شب تک عوام کے لیے کھلا رہتا ہے، جبکہ جمعہ کو دوپہر 2 بجے سے رات 12 بجے تک کھلا ہوتا ہے۔ زائرین کے لیے یہ میلہ علم، ادب اور تخلیقی تجربے کا حسین امتزاج پیش کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews توجہ کا مرکز ریاض زائرین شائقین علم و ادب کتب میل وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: توجہ کا مرکز ریاض کتب میل وی نیوز کتب میلہ سے زیادہ کا مرکز کے لیے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف