Jasarat News:
2026-06-03@01:44:36 GMT

پی پی — ن لیگ مناظرہ کب ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

۔8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے نتائج تبدیل کر کے جب مسلم لیگ نون کو پنجاب، پیپلز پارٹی کو سندھ، تحریک انصاف کو خیبر پختون خوا سونپ دیا گیا، بلوچستان کو ہمیشہ کی طرح اپنے پاس رکھ لیا گیا (ویسے دکھاوے کے طور پر بلوچستان بھی پیپلز پارٹی کے پاس ہے) اسی وقت پاکستان سے محبت کرنے والے رہنماؤں، دانشوروں اور صحافیوں نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اس اقدام کے ملک کے مستقبل پر بہت خطرناک اثرات مرتب ہوں گے اس سے صوبائی عصبیت میں اضافہ ہوگا، اب یہ خدشات پورے ہوتے نظر آرہے ہیں۔ جس طرح نواز شریف نے مشکل حالات میں سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ’’جاگ پنجابی جاگ، تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘ کا نعرہ لگایا تھا اسی طرح مریم نواز شریف نے بھی پنجاب میں کسی طرح بھی عمران خان کی مقبولیت کم نہ ہونے پر پنجابی عصبیت کا نعرہ بلند کر دیا ہے، پیپلز پارٹی تو پہلے ہی سندھ تک محدود ہے اور اس پر خوش ہے، سندھی عصبیت کے آسان راستے سے وہ سیاست میں زندہ رہنا چاہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کے عہدے داروں کے ساتھ ساتھ جب ضرورت پڑتی ہے بلاول زرداری بھی ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کا نعرہ بلند کر دیتے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا استعمال کرنے کا بار بار مطالبہ کیا تھا یہ مطالبہ یقینا نامعقول تھا، سیلاب زدگان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سیلاب آنے سے پہلے خوشحال تھے لہٰذا وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل ہی نہیں ہوں گے اور جو لوگ اس پروگرام میں شامل ہیں ممکن ہے کہ وہ سیلاب سے متاثر ہی نہ ہوئے ہوں تو پھر کیا ہوگا؟، حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی یہ چال تھی کہ سارے امدادی پروگرام کا کریڈٹ بے نظیر مرحومہ کے توسط سے اسے مل جائے اس پروگرام پر پہلے ہی متعدد اعتراضات ہیں۔ مستقل خیرات غربت ختم نہیں کرتی، بڑھاتی ہے، غربت ختم کرنے کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ضروری ہے روزگار کے مواقع بڑھانے کا مطلب سرکاری ملازمتوں میں اضافہ ہرگز نہیں، نجی شعبے کے کاروبار کی ترقی ہے اور یہ ترقی سازگار ماحول سے مشروط ہے، پاکستان میں اس کے بالکل برعکس پالیسیوں پر عمل کیا جا رہا ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ مقامی لوگوں کے لیے تو ملک میں کاروبار کرنا دشوار تھا ہی، اب دیو ہیکل بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔ فلپ اینڈ مورس اس کی تازہ ترین مثال ہے اسٹاک ایکسچینج میں فلپ اینڈ مورس پاکستان لمیٹڈ کے شیئرز کی رضاکارانہ ڈی لسٹنگ کی منظوری دے دی ہے، اس سے پہلے متعدد بڑی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ کر جا چکی ہیں ان میں پروکٹر اینڈ گیمبل، شیل، مائیکروسافٹ، اوبر، کریم، یاماہا، وارد، ٹیلی نار وغیرہ شامل ہیں۔

اسی طرح پاکستان میں ٹیکسٹائل سیکٹر کے بہت بڑے ادارے گل احمد ٹیکسٹائلز نے بھی اپنا برآمدی شعبہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، کسی بھی ملک میں بیرونی سرمایہ کار تب ہی آتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ کسی بھی تنازع کی صورت میں وہاں کی عدالتوں سے انہیں انصاف مل جائے گا، بدقسمتی سے پاکستان میں آج کل جج خود انصاف کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں اور دنیا یہ سارے مناظر دیکھ رہی ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے اس پہلو پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ بے نظیر شہید سے محبت کا دم بھرنے والوں میں ارب پتیوں کی تعداد کم نہیں ہے، اور ان کے شوہر آصف زرداری تو کھرب پتی ہیں، وہ خود اپنی دولت میں سے کچھ حصہ نکال کر بے نظیر کے نام سے کوئی خیراتی، فلاحی پروگرام کا آغاز کیوں نہیں کرتے، دوسری جانب یہی حال مسلم لیگ نون کا ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیصل آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری تصویریں زیادہ آنے پر تنقید کی جاتی ہے جب کام کرو گے تو تصویر تو آئے گی، کوئی پوچھے کیوں بھئی آپ کی اور آپ کے والد گرامی نواز شریف کی تصویر کیوں آئے گی، عوام پر بھاری بھرکم ٹیکس لاد کر حاصل کیا گیا پیسہ استعمال ہو رہا ہے تو آپ کی تصویر کیوں؟ اگر آپ کو اپنی یا میاں نواز شریف کی تصویریں چھاپنے کا شوق ہے تو آپ کے پاس اربوں روپے نہیں، اربوں ڈالر پڑے ہیں ان سے عوام کی مدد کریں اور ہر امدادی تھیلے کیا، تھیلے میں رکھی گئی ہر شے پر اپنی اور اپنے پورے خاندان کی تصویریں لگا دیں۔

اوہ! لیکن میں بھول گیا اسی موقع پر مریم نواز صاحبہ نے یہ بھی کہا تھا کہ میرا پانی، میرا پیسہ آپ کو کیا تکلیف ہے، وہ سرکاری یعنی عوام کے پیسے کو اپنا پیسہ سمجھتی ہیں، اسی لیے وہ اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا جائز سمجھتی ہیں، وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں مشورے نہ دو، پنجاب پر بات کرو گے تو مریم نواز آپ کو چھوڑے گی نہیں، ہمیں اس موقع پر الطاف حسین یاد آگئے وہ بھی اپنی ہر تقریر میں 10، 12 دفعہ اپنا قصیدہ آپ پڑھا کرتے تھے، ویسے مریم نواز صاحبہ سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا کسی بھی صوبے میں صرف حکمران جماعت کو ہی بات کرنے کا حق ہوتا ہے، باقی تمام پارٹیوں اور رہنماؤں کا بات کرنا غیر قانونی ہوتا ہے؟ کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ نون سندھ کے حوالے سے بات نہیں کرتی، سندھ کے امور پر نون لیگ کا بات نہ کرنا اچھی نہیں، بری بات ہے، مسلم لیگی رہنماؤں کو اگر سندھ سے محبت ہے تو انہیں یہاں ہونے والی ہر زیادتی، ہر ظلم پر آواز اٹھانی چاہیے، یہاں ہونے والی لوٹ مار سے آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں، بصورت دیگر یہی سمجھا جائے گا کہ آپ نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ سندھ پیپلز پارٹی کی ملکیت ہے، وہ جو چاہے کرے۔

بہرحال پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی اس زبانی جنگ میں شرجیل انعام میمن اور عظمیٰ بخاری نے ایک دوسرے کو مناظرے کا چیلنج دے دیا ہے اور دونوں نے ہی قبول بھی کر لیا ہے، ہم امید کرتے ہیں دونوں لیڈر اپنے کہے کا پاس رکھیں گے اور یہ مناظرہ جلد منعقد ہوگا ہمارے خیال میں مناظرہ غیر جانبدار مقام پر ہونا چاہیے اور اسے براہ راست نشر کیا جانا چاہیے، کیا خیال ہے یہ مناظرہ پشاور میں کیسا رہے گا، علی امین گنڈا پور اچھے میزبان ہیں۔

احمد حسن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی نواز شریف مریم نواز شامل ہی کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹو

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔

گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟

نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔

نواز شریف کی زیرصدارت پارلیمانی بورڈ اجلاس، جی بی الیکشن کے لیے امیدواروں پر مشاورت

اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔

ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف