شکار پورسومرواہ کے مقام پر ریلوے ٹریک پر دھماکہ،جعفر ایکسپریس کی 5 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
سندھ کے ضلع شکارپور میں سلطان کوٹ کے قریب سومرواہ کے مقام پر ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکے سے پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، جب کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے اور دھماکے کی نوعیت جانچنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے مقام پر ٹریک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ واقعہ جعفر ایکسپریس پر ہونے والا پہلا حملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ٹرین کو کئی بار دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ رواں سال ستمبر میں بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس حادثے کا شکار ہوئی تھی، جس میں ایک بوگی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ چھ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ اس واقعے میں 12 مسافر زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح رواں برس 4 اگست کو کولپور کے قریب بھی جعفر ایکسپریس پر حملے کی کوشش کی گئی، جب کلیئرنس کے لیے بھیجے گئے پائلٹ انجن پر فائرنگ کی گئی تھی۔ اس سے قبل 11 مارچ 2025 کو جعفر ایکسپریس پر بڑا دہشت گرد حملہ کیا گیا تھا، جس میں 26 مسافر شہید ہوئے تھے، جن میں فوج، ایف سی، ریلوے اہلکار اور عام شہری شامل تھے۔ اس واقعے میں 354 یرغمالیوں کو بھی بازیاب کرایا گیا تھا۔ جون 2025 میں بھی سندھ کے ضلع جیکب آباد میں جعفر ایکسپریس بم دھماکے کا نشانہ بنی تھی، جس سے چار بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، تاہم خوش قسمتی سے تمام مسافر محفوظ رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں جعفر ایکسپریس
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔