رواں سال کا پہلا سپر مون آج آسمان پر جگمگائے گا، پاکستان میں بھی نظارہ ممکن؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
رواں سال کا پہلا سُپر مون آج رات اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان پر نمودار ہوگا۔
ترجمان اسپارکو کے مطابق سپر مون کے دوران چاند زمین سے تقریباً دو لاکھ چوبیس ہزار میل کے فاصلے پر ہوگا، جس کے باعث وہ معمول کے مکمل چاند کے مقابلے میں 6.6 فیصد بڑا اور 13 فیصد زیادہ روشن دکھائی دے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگ اس دلکش منظر سے لطف اندوز ہوسکیں گے، سپر مون سورج غروب ہونے کے فوراً بعد مشرقی افق سے طلوع ہوگا، جب کہ یہ طلوع آفتاب سے قبل مغربی سمت میں غروب ہوجائے گا
اسپارکو کے مطابق رواں سال مزید دو سپر مونز بھی دیکھے جا سکیں گے، ان میں سے سب سے روشن سپر مون 5 نومبر 2025 کو متوقع ہے، جب کہ تیسرا اور آخری سپر مون 5 دسمبر کو دکھائی دے گا۔
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ سپر مون اُس وقت بنتا ہے جب چاند اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین کے قریب ترین مقام پر پہنچ جاتا ہے، اس وقت چاند عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ بڑا، چمکدار اور نمایاں نظر آتا ہے، اسی لیے اسے سپر مون کہا جاتا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔