ٹرمپ پالیسیوں کے بعد بھارتی طلبہ کی امریکا آمد میں 44 فیصد کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت اقدامات نے بھارت طلبہ کے تعلیمی پروگراموں کو شدید متاچر کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق کئی دہائیوں سے امریکی یونیورسٹیاں بھارتی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا سب سے بڑا مرکز سمجھی جاتی تھیں، لیکن اب صورتحال ڈرامائی طور پر بدل گئی ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2024 میں 71 ہزار بھارتی طلبہ امریکا پہنچے تھے، جبکہ اگست 2025 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 41 ہزار رہ گئی ، یعنی 44 فیصد کی نمایاں کمی۔ یہ تبدیلی نہ صرف بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ خود امریکی تعلیمی ادارے بھی مالی نقصان سے دوچار ہیں۔
گزشتہ برس بھارتی طلبہ نے امریکی یونیورسٹیوں کو صرف فیس کی مد میں تقریباً 8 ارب ڈالر (تقریباً 22 کھرب 48 ارب پاکستانی روپے) ادا کیے تھے، لیکن صدر ٹرمپ نے اپنی نئی امیگریشن اور تعلیمی پالیسیوں کے ذریعے اس “تعلیمی ہنی مون” کا خاتمہ کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی چالاک سیاست اور سفارتی برتری کا فائدہ امریکا کے تعلیمی نظام کو مالی طور پر تو پہنچ رہا ہے، مگر اس کے بدلے میں امریکا کو روزگار اور ویزا پالیسیوں پر دباؤ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹرمپ نے سب سے پہلے اعلان کیا کہ بھارتی گریجویٹس اب تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکی کمپنیوں میں آسانی سے ملازمت حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اس کے بعد بھارتیوں کے پسندیدہ “ٹیک ویزا” کی فیس بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کر دی گئی۔
مزید یہ کہ اب امریکی یونیورسٹیوں کو صرف 15 فیصد غیر ملکی طلبہ داخل کرنے کی اجازت ہوگی اور کسی بھی ملک سے زیادہ سے زیادہ 5 فیصد طلبہ ہی داخل کیے جائیں گے۔ ان پابندیوں نے بھارتی طلبہ کے لیے امریکا کے دروازے تقریباً بند کر دیے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ان فیصلوں سے امریکا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ بھارتی طلبہ ہمیشہ سے فیس کی ادائیگی کے لحاظ سے سرفہرست رہے ہیں۔ اب جب وہ یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا اور مشرقی ایشیا کی جانب رخ کر رہے ہیں تو امریکی یونیورسٹیوں کے مالی استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
بھارتی میڈیا میں اس معاملے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے جب کہ ٹرمپ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی صرف بھارت ہی نہیں بلکہ تمام ممالک پر یکساں لاگو ہوگی تاکہ امریکی طلبہ کو زیادہ مواقع دیے جا سکیں، تاہم بھارتی طلبہ میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے، جو برسوں سے امریکا کو اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ خوابوں کی منزل سمجھتے آئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مودی اور ٹرمپ کے تعلقات میں پیدا ہونے والی سرد مہری نے بھی اس پالیسی کو متاثر کیا ہے۔ مودی حکومت کی سفارتی کوششیں بھی اب تک اس پابندی کو نرم نہیں کرا سکیں۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا میں بھارتی طلبہ کی تعداد تاریخ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ سکتی ہے — جو بھارت کے لیے تعلیمی اور معاشی دونوں حوالوں سے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: بھارتی طلبہ کے مطابق ٹرمپ کے کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔