Jasarat News:
2026-07-24@10:59:18 GMT

افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مسلمان ملکوں کا مستقبل
تمام مسلمان ملکوں کا مستقبل منحصر ہے اس بات پر کہ آخرکار یہاں اسلام کے بارے میں کیا رویہ اختیار کیا جائے گا۔ اگر اسلام کے بارے میں منافقانہ طرزِ عمل کی صورت مسلمان ملکوں میں جاری رہی اور یہ معاندانہ رویہ اسی طرح روا رکھا جاتا رہا تو مجھے ڈر ہے کہ مسلمان قوم زیادہ دیر تک اپنی آزادی کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔ پھر دوبارہ غلام ہوگی اور پہلے سے بدتر پوزیشن میں ڈالی جائے گی۔ البتہ اب بھی اگر ان لوگوں کو عقل آجائے جو مسلمان قوموں کے معاملات چلا رہے ہیں اور مسلمان ملکوں میں صحیح قسم کی جمہوریت قائم ہوجائے، مسلمان قوموں کو یہ اختیار مل جائے کہ وہ اپنی مرضی سے لوگوں کو منتخب کرکے ان کو اقتدار سونپیں اور یہاں اسلام کے منشا، اس کی تہذیب اور اصولوں کے مطابق نظامِ حکومت، نظامِ معیشت اور نظامِ تعلیم رائج کیا جائے، تو میرا خیال ہے کہ بہت جلدی مسلمان قومیں بہت بڑی طاقت بن جائیں گی۔ نہ صرف یہ کہ طاقت حاصل کرلیں گی بلکہ دنیا میں ان کی ایک فیصلہ کن طاقت ہوگی۔ مسلمان ملکوں کا بلاک کوئی معمولی بلاک نہیں ہے۔ انڈونیشیا سے مراکو تک مسلسل مسلمان قوموں کا اتنا بڑا بلاک جس کے پاس اس قدر وسیع ذرائع و وسائل اور جس کی اتنی آبادی (man power) ہے، اگر سارے کا سارا اسلام کے اصولوں پر کام کرے اور اسلام کے اُوپر متحد ہو، تو دنیا کی کون سی طاقت ہے جو اس کے سامنے ٹھیرسکتی ہے۔
٭—٭—٭

’اختلاف‘ کا منفی مطلب!
کسی مسئلے میں کسی شخص یا گروہ سے اختلاف کرنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ آدمی اس شخص یا گروہ کا مخالف ہے، یا اس کا دشمن ہے، یا جملہ مسائل میں اسے غلط کار سمجھتا ہے۔ آخر آپ حضرات خود شوافع، حنابلہ اور مالکیہ کی بہت سی آرا سے اختلاف کرتے ہیں، اور بسا اوقات بڑے زور شور سے ان کی آراء کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔ کیا اس کے یہ معنی لینے میں کوئی شخص حق بجانب ہوگا کہ آپ ان ائمۂ ثلاثہ اور ان کے پیرو علما کے مخالف ہیں اور ان کو قاطبۃً خطاکار قرار دیتے ہیں اور ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں؟
اس لیے میری گزارش یہ ہے کہ آپ اپنے اس طرزِ فکر پر نظرثانی فرمائیں اور اختلاف رائے کو مخالفت و عداوت اور عناد کے ساتھ خلط ملط نہ فرمائیں۔
میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس کا جو طریقہ قرآن و سنت اور عملِ صحابہؓ سے ثابت ہے وہی کافی ہے اور اسی پر ہمیں اکتفا کرنا چاہیے۔ اس سے بہتر کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے اور اس میں کمی و بیشی کرنا نہ درست ہے، نہ مفید۔ اس سے ہٹ کر جو طریقے جس نے بھی ایجاد کیے ہیں، یا دوسرے ادیان و ملل کے متبعین سے اخذ کیے ہیں، ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس رائے میں اگر کوئی غلطی ہے تو آپ اس پر مجھے دلائل کے ساتھ متنبہ فرمائیں۔ میں پھر اس پر غور کروں گا۔ لیکن میں اس الزام سے برأت ظاہر کرتا ہوں کہ اس اختلاف رائے کی وجہ سے میں صوفیا کا مخالف ہوں، یا تصوف کا دشمن ہوں، یا اہلِ تصوف کو بالکلیہ مطعون کرتا ہوں۔ (رسائل و مسائل، ترجمان القرآن، اگست 1961)

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلمان ملکوں اسلام کے

پڑھیں:

اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب

برطانوی ہائی کمیشن نے گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں  کے آغاز کی مناسبت سے اسلام آباد میں ایک خصوصی استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا، جس میں کھیل، حکومت، سول سوسائٹی، میڈیا اور دولتِ مشترکہ کے سابق اسکالرز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

گلاسگو میں 23 جولائی سے 2 اگست 2026 تک منعقد ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں 74 رکن ممالک اور خطوں کے تقریباً 3 ہزار کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ مقابلوں میں 10 مختلف کھیل شامل ہیں، جن میں 6 پیرا اسپورٹس بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دولت مشترکہ میں خدمات سرانجام دینے والی بلی کو نئی ذمہ داریاں مل گئیں

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ دولتِ مشترکہ کھیل صرف تمغے جیتنے کا مقابلہ نہیں بلکہ یہ مختلف قوموں کو قریب لانے، صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور کھیلوں کے ذریعے معاشروں کو متحد کرنے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ شاندار رہی ہے اور پاکستانی کھلاڑی آج بھی نوجوان نسل کے لیے باعثِ تحریک ہیں۔ انہوں نے برطانیہ، پاکستان اور دولتِ مشترکہ کے درمیان مضبوط تعلقات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

تقریب میں دولتِ مشترکہ اسکالرشپس اور فیلوشپس پروگرام کو بھی اجاگر کیا گیا، جس کے ذریعے گزشتہ 60 برس سے مختلف رکن ممالک کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

استقبالیے سے قبل برطانوی ہائی کمیشن نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان نوجوان رہنماؤں کو بھی اعزازات سے نوازا، جنہیں “ملکہ الزبتھ دوم کامن ویلتھ ٹرسٹ 100 ینگ لیڈرز ایوارڈز” کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

اعزاز حاصل کرنے والوں میں پاک جی پی ٹی  کی شریک بانی فرح گل رہوجہ شامل ہیں، جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ محروم طبقات کی مدد کر رہی ہیں۔ امید فاؤنڈیشن کے بانی حسن اشرف کو محنت کش بچوں اور پسماندہ طبقات کے لیے مفت تعلیم کے فروغ پر سراہا گیا، جبکہ گرلز یونائیٹڈ فار ہیومن رائٹس کی بانی ہادیقہ بشیر کو کم عمری کی شادی کے خاتمے، صنفی تشدد کے خلاف جدوجہد اور بچیوں کی تعلیم کے فروغ پر اعزاز دیا گیا۔ اسی طرح آئی ایس وائی ڈی  کے بانی جوشوا دلاور کو نوجوانوں کی شمولیت، صحت میں مساوات، صنفی برابری اور سماعت سے محروم نوجوانوں کی تربیت کے شعبے میں خدمات پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق گلاسگو 2026، برطانیہ کی جانب سے 2014 میں گلاسگو اور 2022 میں برمنگھم میں کامیاب دولتِ مشترکہ کھیلوں کے انعقاد کی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ اس تقریب کا مقصد کھیل، تعلیم اور نوجوان قیادت کے ذریعے دولتِ مشترکہ ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام اباد برٹش ہائی کمیشن پاکستان دولت مشترکہ

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار