مذہبی جماعت کا احتجاج؛ لاہور تا اسلام آباد موٹروے و دیگر داخلی راستے بند، موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اسلام آباد/لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اکتوبر 2025ء ) وفاقی دارالحکومت میں مذہبی جماعت تحریک لبیک کے احتجاج کی کال پر لاہور تا اسلام آباد موٹروے و دیگر داخلی راستے بند کردیئے گئے، حکام نے موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل بھی کردی۔ تفصیلات کے مطابق مذہبی جماعت ٹی ایل پی کی طرف سے احتجاجی ریلی کے اعلان کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں کو مختلف مقامات سے بند کیا گیا ہے، لاہور تا اسلام آباد موٹر وے اور جی ٹی روڈ بھی بند ہے، لاہور میں اورنج لائن ٹرین معطل کردی گئی، محکمہ داخلہ نے پنجاب بھر میں دس روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی، عوامی مقامات، گلی، محلوں اور کھلے میدان میں 4 یا 4 سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی، نماز، شادی، جنازہ، دفاتر اور عدالتوں پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا، صوبہ بھرمیں اسلحے کی نمائش پر بھی مکمل پابندی لگادی گئی۔
(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کی منظوری دی اور اس سلسلے میں پی ٹی اے کو مراسلہ بھیجوایا گیا، پی ٹی اے کو بھیجے جانے والے مراسلے میں جڑواں شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس گزشتہ رات 12 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا کہا گیا، اسی طرح لاہورسے اسلام آباد موٹروے بھی ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی، بابوصابو اور ٹھوکرنیاز بیگ سے موٹروے پر انٹری بند کردی گئی، اسلام آباد میں موٹروے پر آنے والے تمام راستے بند ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ جی ٹی روڈ بھی مختلف مقامات سےٹریفک کیلئے بند کردی گئی، مریدکے، چناب نگر، گجرات سے جی ٹی روڈ بند ہے، انتظامیہ نے جہلم پل، چکوال موڑ بھی ٹریفک کیلئے بند کردی، لاہور میں اورنج لائن ٹرین سروس عارضی طور پر معطل کی جاچکی ہے، گوجرانوالہ جی ٹی روڈ ہر طرح کی ٹریفک کیلئے بند ہے، سادھوکی، کامونکی ٹول پلازہ اور چن داقلعہ، چوک عزیز کراس چوک فلائی اوور بھی بند کر دیا گیا، ایکسپریس ہائی وے اور سیالکوٹ کی طرف آنے جانے والے راستے بند کر دیے گئے۔ بتایا جارہا ہے کہ اسلام آباد روات ٹی چوک سے اسلام آباد اور مری سے فیض آباد کی جانب آنے والے راستوں کو بند کیا گیا ہے، اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ٹریفک ڈائیورژن پلان بھی جاری کیا، اسلام آباد سے لاہور تک کے لیے موٹروے اور جی ٹی روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھلی ہے، حفاظتی نقطہ نگاہ سے جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو سروس کو بھی معطل کردیا گیا، اسلام آباد کے مختلف روٹس پر چلنے والی الیکٹرک بس بھی سڑکوں پر نظر نہیں آرہی، جڑواں شہروں کی انتظامیہ نے تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان نہیں کیا تاہم مختلف شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے طالب علموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ٹریفک کیلئے بند انٹرنیٹ سروس اسلام ا باد اسلام آباد راستے بند جی ٹی روڈ نے والے کے لیے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔