کراچی اور حیدر آباد میں 500 الیکٹرک بسیں متعارف کرائی جائیں گی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
کراچی:
سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے اعلان کیا ہے کہ کراچی اور حیدر آباد میں مرحلہ وار 500 الیکٹرک بسیں متعارف کرائی جائیں گی۔
اپنے بیان میں وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز گرین ٹرانسپورٹ منصوبے کے تحت کراچی اور حیدرآباد میں 500 الیکٹرک بسیں مرحلہ وار متعارف کرائی جائیں گی اور یہ فلیگ شپ منصوبہ ہوگا، جس سے شہریوں کو آرام دہ اور کم لاگت سفری سہولت ملے گی اور اس سے فضائی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے میں جدید بس ڈپو، چارجنگ اسٹیشنز، خودکار کرایہ وصولی اور اسمارٹ مانیٹرنگ سسٹم بھی شامل ہوں گے۔ کراچی پورٹ تا قیوم آباد ایلیویٹڈ ایکسپریس وے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی ہے، جو بندرگاہ سے بھاری گاڑیوں کے لیے مخصوص راستہ فراہم کرے گا۔
سینئر صوبائی وزیر نے بتایا کہ 16.
اسی طرح جامشورو اور مٹیاری میں 41 ہزار ایکڑ رقبے پر دریائی جنگلات لگانے کا منصوبہ ماحولیاتی تحفظ اور کاربن کے اخراج میں کمی کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت زراعت اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبے میں بھی نجی شراکت داری کو فروغ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضلع ٹھٹھہ میں ٹماٹر کلسٹر پراسیسنگ پلانٹ اور صوبے بھر میں چاول اور گندم میکانائزیشن منصوبہ پر فزیبلٹی اسٹڈیز جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال پر حکومتی توجہ کا مظہر ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت صوبے میں ٹرانسپورٹ، توانائی، ماحولیات اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں متعدد اہم منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبے شہری سہولتوں میں بہتری، روزگار کے مواقع، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جاری منصوبے سندھ کے عوام کے لیے ایک بہتر، خوشحال اور جدید مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ عوامی خدمت، ترقی اور خود انحصاری کے وژن پر عمل پیرا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شرجیل میمن نے کہا کہ
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز