Nawaiwaqt:
2025-11-29@05:12:31 GMT

وزیراعظم نے ایف بی آر کے گریڈ 20 کے افسر کو برطرف کردیا

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

وزیراعظم نے ایف بی آر کے گریڈ 20 کے افسر کو برطرف کردیا

وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آرکےگریڈ 20 کے افسر رانا وقار علی کو ملازمت سےبرطرف کردیا۔وزیراعظم کی منظوری کے بعدایف بی آر نے رانا وقار علی کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، انکوائری میں راناوقار علی پرنااہلی، مس کنڈیکٹ اورکرپشن کے الزامات ثابت ہوگئے۔ایف بی آر کے گریڈ 20 کے افسر رانا وقارعلی کو برطرفی کے خلاف اپیل کاحق حاصل ہوگا جب کہ برطرفی کے خلاف اپیلیٹ اتھارٹی میں 30 روزکے اندر اپیل کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پور ی ہو گئی، ایف بی آر نے نے گریڈ 17اور اس سے اوپر ک افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا نو ٹی فیکیشن جاری کر دیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی ایک اور بڑی شرط پوری کردی ہے، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے شیئرنگ آف ڈیکلیریشن آف ایسیٹس آف سول سرونٹس رولز 2023 میں اہم ترامیم متعارف کرا دی ہیں۔

مذکورہ ترامیم اس سے قبل 7 اکتوبر 2025 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن  1912(I)/2025 کے تحت شائع کی گئی تھیں جنہیں قانون کے مطابق عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔ایف بی آر کےجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں، سب سے اہم ترمیم یہ ہے کہ قواعد میں جہاں کہیں بھی لفظ سول  استعمال ہوا ہے وہاں پبلک کا لفظ شامل کر دیا گیا ہے اور ایک کی ذیلی شق (1) میں بھی یہی تبدیلی منظور کی گئی ہے۔

پاکستانیوں کے لیے روزانہ 500 ویزے پراسیس ہو رہے ہیں ، سفیر متحدہ عرب امارات

ایف بی آر کی جانب سے رول 2 میں ایک نئی شق(ii-a)  شامل کی  گئی ہے جس کے مطابق پبلک سرونٹ سے مراد وفاقی یا صوبائی حکومتوں، خود مختار اداروں، سرکاری کارپوریشنز یا حکومتی ملکیتی کمپنیوں کے ایسے افسران ہوں گے جن کا پے اسکیل 17 یا اس سے اوپر ہو اور اس تعریف میں وہ ملازمین بھی شامل ہوں گے جو سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت آتے ہیں۔اس شق میں ایسے افراد شامل نہیں ہوں گے جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 کے کلاز (n) کی ذیلی شق (iv) میں استثنیٰ دیا گیا ہے۔ایف بی آر کے مطابق ان ترامیم کا مقصد قواعد کو زیادہ جامع اور ہم آہنگ بنانا ہے، تاکہ سرکاری و نیم سرکاری افسران کے اثاثوں کی معلومات کے تبادلے کا نظام مزید واضح، مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔

ہمایوں سعید فلرٹ نہیں کرتے ، ان کی چھیڑ چھاڑ صرف دوستانہ ماحول میں ہوتی ہیں، مہوش حیات

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں،رانا ثنا اللہ
  • نیب میں گریڈ 18 کے 29 افسران کو گریڈ 19 میں ترقی دے دی گئی
  • بجلی کے محکموں کے ملازمین کو ماہانہ 300 سے 1300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کیے جانے کا انکشاف
  • بدترین شکست کے بعد بھارت میں ہنگامہ، کوچ اور سلیکٹر کی فوری برطرفی کا مطالبہ زور پکڑ گیا
  • وزیر اعظم کا ڈیرہ اسماعیل خان میں کامیاب آپریشن اور 22 خوارج کی ہلاکت پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری
  • آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پور ی ہو گئی، ایف بی آر نے نے گریڈ 17اور اس سے اوپر ک افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا نو ٹی فیکیشن جاری کر دیا
  • آئی ایل ٹی20: شعیب ملک پہلی بار کمنٹری باکس میں،وسیم اکرم، وقار یونس بھی پینل کا حصہ
  • بانی پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا جیل ٹرائل منسوخ کردیا گیا
  • راولپنڈی میں ٹریفک خلاف ورزیوں پر ای چالان کا باقاعدہ نفاذ کردیا گیا