پاکستان کا سلامتی کونسل میں لیبیا کے خودمختار سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
نیویارک (ویب ڈیسک) پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن برائے لیبیا (UNSMIL) پر بریفنگ کے دوران لیبیا کی خودمختاری، قومی وحدت اور شفاف سیاسی عمل کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان کے نگران مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ، سفیر عثمان اقبال جدون نے کہا کہ پاکستان ایک لیبیا کی قیادت اور ملکیت پر مبنی روڈ میپ کو استحکام کی ضمانت سمجھتا ہے اور اس حوالے سے مشن کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ ہنّا ٹیٹے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ لیبیا میں امن، قومی مفاہمت اور سیاسی استحکام کے لئے مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔
عثمان اقبال جدون نے برطانیہ کے تعمیری تعاون کا بھی خیرمقدم کیا جو روڈ میپ پر عملدرآمد کے ضمن میں اہم رہا ہے۔
سفیر نے سیکرٹری جنرل کے سٹریٹجک جائزے اور اس میں دی گئی تجاویز کو UNSMIL کو زیادہ لچکدار اور نتائج پر مبنی بنانے کے لئے رہنما اصول قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مشن کے مینڈیٹ کو مؤثر بنانے اور لیبیا میں سیاسی عمل کو لیبیا کی قیادت میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
عثمان جدون نے کونسل کے سامنے پانچ کلیدی ترجیحات پیش کیں، جن میں خصوصی نمائندہ کے سیاسی روڈ میپ کی مکمل حمایت، عبوری مرحلے کی تکمیل، ادارہ جاتی استحکام، شمولیتی انتخابات کا انعقاد، اور واضح ٹائم لائنز کے تعین پر زور دیا گیا، تاکہ لیبیا کے سیاسی مستقبل میں عوام کی ملکیت اور شرکت یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے ہائی نیشنل الیکشن کمیشن کی جانب سے 34 بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی کوششوں کو سراہا اور زور دیا کہ امن و امان کی بحالی کے بعد ان انتخابات کا جلد انعقاد ضروری ہے۔
طرابلس میں جنگ بندی کے تسلسل کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے انہوں نے اعتماد سازی کے مزید اقدامات اور سلامتی کمیٹیوں کے مابین مربوط تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
معاشی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے، سفیر نے قومی بجٹ کو یکجا کرنے اور منجمد اثاثوں کی شفاف نگرانی کو سراہا تاکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2769 کے مطابق مالی نظم و ضبط بحال کیا جا سکے، انہوں نے تجویز دی کہ عملدرآمد میں معاون رہنمائی نوٹس (Implementation Assistance Notice) جاری کیا جائے تاکہ بین الاقوامی مالی اداروں کو درپیش قانونی پیچیدگیوں اور ابہامات کو دور کیا جا سکے۔
سفیر عثمان جدون نے اقوامِ متحدہ کے ساتھ پاکستان کے مسلسل تعاون اور ایک مستحکم، خودمختار اور متحد لیبیا کے لئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لیبیا کی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز