پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کردیا
پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے66 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دی گئی ہے اور پیٹرول کی نئی قیمت263 روپے2 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
ایک روپے 39پیسے فی لیٹر کمی کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 275روپے 42پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان
مٹی کے تیل کی قیمت 3 روپے 26پیسے فی لیٹر کمی کے بعد 181 روپے71پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات ڈیزل وزیراعظم شہبازشریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات ڈیزل وزیراعظم شہبازشریف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر گئی ہے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔