وزیراعلیٰ کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر سپریم کورٹ جائیں گے، سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ وزیراعلی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر سپریم کورٹ جائیں گے، پورے عدالتی نظام کو ڈرم بجا کر ناچ کروایا جارہا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 25 مارچ کے فیصلے پر ایک دن بھی عمل نہیں ہوا، فیصلے کے مطابق منگل کو فیملی اور جمعرات کو وکلا کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگی، اکتوبر 2024ء سے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، 10 سے زائد توہین عدالت کی درخواستیں دائر ہوئیں مگر ایک بھی نہیں سنی گئی۔
انہوں ںے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو پروا نہیں کہ اس کے فیصلوں پر عمل ہورہا ہے یا نہیں، سپریم کورٹ جانے کے سوا کوئی آپشن نہیں رہا، اس نظام کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں گے ایک دن انصاف ضرور ملے گا، ہم زندہ قوم ہیں جبر سے آزادی حاصل کرنے کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ پر زیادہ بات نہیں کروں لیکن انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے، دہشت گردوں کو کسی ایک شہر پر بمباری کرکے ختم نہیں کرسکتے، ہمیں سوچنا چاہیے کہ خطے میں امن کیسے لایا جائے، پاکستان اور افغانستان کے معاشی سمجھوتے کی صورت میں خطے کا امن ممکن ہے، بانی پی ٹی آئی کے سوا کوئی شخصیت نہیں جس کو تمام فریقین کا اعتماد حاصل ہو۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ایسے شخص کی ضرورت ہے جو جنگ کا خاتمہ کروا کر امن بحال کروائے، افغانستان سے دہشت گردی ہوتی رہی ہے، ہمیں افغانستان سے شکایات ہیں کہ افغانستان سے دہشت گردی ہوئی ہے، افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کی آماجگاہ بنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے وزیراعلی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر سپریم کورٹ جائیں گے، پورے عدالتی نظام کو ڈرم بجا کر ناچ کروایا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی اسلام آباد سپریم کورٹ سے ملاقات
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔