انڈونیشیا نے جے -10 لڑاکا طیارے حاصل کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
جکارتا: انڈونیشیا نے پاک فضائیہ کی جانب سے بھارت میں تباہی مچانے والے جے-10 لڑاکا طیارے چین سے حاصل کرنے کا اعلان کردیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا کے وزیرِدفاع سجفری سجم الدین نے اعلان کیا کہ ’اُن کا ملک چین سے جے-10 لڑاکا طیارے حاصل کرنے جارہا ہے‘۔
انڈونیشیا کے وزیردفاع سجفری سجم الدین نے ممکنہ دفاعی سودے کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم انہوں نے کہا یہ طیارے بہت جلد جکارتا کی فضاؤں میں پرواز کرتے ہوئے دیکھے جاسکیں گے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق چینی تجزیہ کار نے بتایا کہ چینی جے-10 طیارےکم لاگت میں بہترین صلاحیتوں کے حامل ہیں جن کو ایک بہترین آپشن کے طور پر ہتھیاروں کی عالمی مارکیٹ میں دیکھا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت فضائی جھڑپ میں پاکستان کے فضائی بیڑے میں شامل چینی ساختہ جے-10 لڑاکا طیاروں نے بھارتی فضائیہ میں شامل فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کو دیگر بہترین لڑاکا طیاروں کے ہمراہ شکست دے کر دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔اسی فضائی جھڑپ میں پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی کے معترف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہیں، جووقتاً فوقتاً اس معارکہ آرائی کو رکوانے اور بھارتی فضائیہ کی خراب کارکردگی کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔