Express News:
2026-06-03@07:39:25 GMT

تکبّر وہ بُری شے ہے کہ آخر ٹوٹ ہے جاتا ہے

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

’’کبر اور بڑائی خاص ذات الٰہی کے لیے ہے، کسی مخلوق خصوصاً اشرف المخلوقات کو یہ ہرگز زیبا نہیں کہ وہ اس ردائے الہٰی پر دست درازی کرے، یہی فعل ابلیس کی دائمی ملعونیت کا باعث بنا۔ کبر دراصل خود پسندی کی وہ شکل ہے جس میں آدمی دوسروں کو حقیر و بے چارا سمجھتا ہے اور خود کو سر بلند و گردن فراز، مگر وہ شاید اس قانون الہٰی سے واقف نہیں کہ ہر متکبر کا انجام وہی ہے جو شیطان کا ہے۔‘‘ (ریاض الصالحین)

ارشاد خداوندی کا مفہوم: ’’لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیرو۔ اور نہ زمین پر اترا کر چلو۔ کیوں کہ اﷲ تعالیٰ متکبّر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے۔‘‘ (لقمان)

قارون، حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی کا ہم قوم تھا، مگر وہ اپنوں ہی میں تکبر کرنے لگا ، اﷲ تعالی نے اسے اتنا بھاری خزانہ مرحمت فرمایا تھا کہ ان کی کنجیوں کا بوجھ ہی کئی طاقت ور لوگوں کے سانس پھلا دیتا تھا، جب اس کی قوم نے اسے نصیحت کی کہ اس جاں و چشم اور دولت پر مت اتراؤ کہ اﷲ تعالیٰ اترانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن وہ باز نہیں آیا تو پس اﷲ تعالی نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔

جناب عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم:

’’جس کے دل میں ذرّہ برابر بھی کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اس پر ایک شخص نے پوچھا: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس بھی اچھا ہو، جوتے بھی عمدہ ہوں، کیا یہ بھی تکبر میں داخل ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اﷲ تعالیٰ خود جمیل (خوب صورت) ہے اسے جمال و نفاست پسند ہے (یہ کبر نہیں ہے) کبر تو یہ ہے کہ اپنے گھمنڈ کی وجہ سے حق ہی کا انکار کردے اور لوگوں کو ذلیل سمجھنے لگے۔‘‘ (مسلم)

جناب حارثہ بن وہب رضی اﷲ عنہ راوی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، مفہوم:

’’میں تمہیں بتاتا ہوں کہ دوزخ میں کون کون لوگ ہوں گے ، وہاں سب سرکش بخیل اور متکبر ہی ہوں گے ۔‘‘ (متفق علیہ)

جناب ابوہریرۃ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ تہبند کو از راہ تکبر لٹکانے والے کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔‘‘ (متفق علیہ)

جناب ابوہریرۃ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم:

’’اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: عزت میرا پہناوا، کبریائی میری چادر ہے ۔ ان دونوں کے بارے میں جو بھی مجھ سے جھگڑے گا میں اسے عذاب میں مبتلا کردوں گا۔‘‘ (مسلم)

جناب ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم:

جنت و دوزخ میں تکرار ہوئی تو دوزخ کہنے لگی: میرے ہاں تو بڑے بڑے جابر اور متکبر لوگ فروکش ہوں گے۔ جنت بولی: میرے ہاں تو ضعیف و نادار لوگ ہی جگہ پا سکیں گے۔ اس بحث کا فیصلہ فرماتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: جنّت ! تُو میری رحمت ہے ، تیرے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔ اور اے دوزخ! تُو میرا عذاب ہے، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے اسے عذاب دوں گا۔ البتہ تم دونوں کا یہ حق مجھ پر لازم ہے کہ دونوں کو بھردوں گا۔ (مسلم)

جناب ابوہریرۃ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم:

ایک شخص (امم سابقہ میں سے) لباس فاخرہ پہنے جی ہی جی میں خوش ہوتا، سر میں کنگھی کیے (بال سنوارے) متکبرانہ چال سے چلا جا رہا تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے اچانک اسے زمین میں دھنسا دیا اور اب وہ قیامت کے دن تک دھنسا ہی رہے گا۔ (بخاری و مسلم)

تکبر کے چند اسباب :

بہت کم ہی علماء ہیں جو تکبر سے خالی ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی کا مفہوم ہے:

’’ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی آفت ہے، تکبر علم کی آفت ہے۔

صوفیائے کرام فرماتے ہیں: جس علم سے تکبر پیدا ہو، وہ علم جہل سے بھی بد تر ہے۔ کیوں کہ حقیقی علم وہ ہے جتنا بڑھے گا خوف الٰہی اتنا ہی بڑھے گا۔ کیوں کہ ارشاد ربانی ہے کا مفہوم ہے: ’’اﷲ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔‘‘

بندوں سے مراد ساری مخلوق و انسان ہیں۔ اس سے معلوم ہُوا کہ اہل علم بہت مرتبے والے ہیں کہ رب تعالی نے اپنی خشیت و خوف ان میں منحصر فرمایا۔ جسے بھی خوف خدا نصیب ہو گا وہ سچے عالموں کے ذریعے مگر مراد علم والوں سے وہ ہیں جو دین کا علم رکھتے ہیں، جن کے عقائد و اعمال درست ہوں۔ (تفسیر ابن کثیر)

حضرت ابوذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کسی آدمی سے میرا جھگڑا ہوگیا تو میں نے اسے: ’’اے کالی عورت کے بیٹے کہہ کر پکارا۔‘‘

حضور نبی کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا:

’’اے ابوذر! یہ مت بھولو کسی گوری کے بیٹے کو کالی کے بیٹے پر فضیلت نہیں ہے۔‘‘

یہ سننا تھا کہ مجھ پر خوف طاری ہوگیا، اسی وقت میں اس آدمی کے پاس پہنچا اور کہا:

’’اٹھو! اور اپنا پیر میرے مونہہ پر رکھو، تاکہ میرے قول کا بدلہ ہو جائے۔‘‘

سبحان اﷲ! یہ تھا صحابیؓ کا عمل۔ ہم سب کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔

حسن و جمال سے غرور گھمنڈ پیدا ہوتا ہے، اس مرض میں خوب صورت مرد بھی گرفتار رہتے ہیں، مگر عورتیں سب سے زیادہ اس مرض میں گرفتار رہتی ہیں، شکل و صورت پر طنز کرنا اور جسم کی نا ہم واری پر مذاق اڑانا عام بات ہے۔ دولت مند لوگ غریبوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اپنی بڑائی اور گھمنڈ میں مست رہتے ہیں۔ متکبر چاہتا ہے کہ لو گ اس کے سامنے کھڑے ہوں اور اس کے واسطے سروقد کھڑے ہوا کریں۔ حضور تاج دار مدینہ ﷺ اس امر سے کراہت فرماتے تھے۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی دوزخی کو دیکھنا چاہے اس سے کہہ دو کہ اس آدمی کو دیکھ لے جو خود تو بیٹھا ہُوا اور لو گ اس کے سامنے کھڑے ہوں۔

 متکبر کسی کی ملاقات کو نہیں جاتا۔ حضرت سفیان ثوریؒ مکہ معظمہ پہنچے تو حضرت ابراہیم بن ادھم نے ان کو بلایا کہ یہاں آکر مجھ سے حدیث روایت کرو۔ وہ چلے آئے حضرت ابراہیم نے کہا میں نے چاہا کہ تمہاری تواضع آزماؤں۔ متکبر کبھی یہ نہیں چاہتا کہ فقیر اس کے پاس بیٹھیں۔ متکبر اپنے گھر میں کچھ کام نہیں کرتا۔ ہمارے حضور ﷺ سب کام خود کرتے تھے۔ متکبر سودا بھی بازار سے خود اپنے گھر نہیں لے جاتا۔ ایک دن حضور نبی کریم ﷺ نے کوئی چیز لی اور خود لے جارہے تھے ایک ایک شخص نے چاہا کہ میں لے چلوں آپ ﷺ نے نہیں دیا اور فرمایا کہ جس کی چیز ہے اسی کا لے جانا بہتر ہے۔

حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں: ’’اے عزیز! گمان نہ کرنا کہ جتنے اچھے کپڑے ہیں سب تکبر ہی کی وجہ سے ہوتے ہیںِ، کیوں کہ آدمی ہر چیز میں نفاست اور اچھائی کو دوست رکھتا ہے اس کی پہچان یہ ہے کہ خلوت میں بھی اچھے ہی کپڑے کو دوست رکھتا ہو۔ اور کوئی شخص پرانا پہن کر بھی تکبر کرتا ہے اس سے اپنے تئیں زاہد ظاہر کرتا ہے۔‘‘

جو لوگ غرور تکبر کی روش اپنائے رہتے ہیں بہ طور سزا ایسے لوگوں کو کتاب الٰہی قرآن پاک کے سمجھنے کی توفیق سے محروم کر دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالی کا مفہوم ہے:

’’اور اپنی آیات سے میں انھیں پھیر دوں گا جو زمین پر ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔‘‘

 حضرت عباسؓ فرماتے ہیں کہ رب فرماتا ہے کہ اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں فضول بے جا اور ناحق بات پر تکبر کرتے ہیں اور اترائے جاتے ہیں۔

تفسیر میں ہے متکبرین کے دل سے فہم قرآن اٹھا لیا جائے گا اور عالم ملکوت اور ان کے قلوب کے درمیان حجاب پیدا کر دیا جاتا ہے، غرور کی وجہ سے ان کو آیات الٰہی میں غور و فکر سے پھیر دیا جاتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)

اﷲ پاک تکبر کرنے والوں کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ گھمنڈ کرنے والے غور کریں اﷲ کی جانب سے کتنا سخت عذاب ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں اس مہلک بیماری سے اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فرماتے ہیں اﷲ تعالی کا مفہوم کیوں کہ ہے کہ ا ہیں کہ

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان