جنوبی وزیرستان سے قندھار کا رہائشی خود کش بمبار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: جنوبی وزیرستان میں فرنٹیئر کور خیبر پختونخواہ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے خود کش بمبار کو گرفتار کر لیا،گرفتار خودکش بمبار نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب کردیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق گرفتار خود کش بمبار کی شناخت نعمت اللہ ولد موسیٰ جان کے نام سے ہوئی، جو افغانستان کے صوبے قندھار کا رہائشی ہے۔ خودکش بمبار نعمت اللہ قندھار مدرسہ کا طالب علم ہے جو حفظ کررہا ہے۔نعمت اللہ نے اعترافی بیان میں کہا کہ مدرسہ میں موجود کچھ لوگوں نے مجھے کہاکہ پاکستانی فوج کے خلاف جہاد جائز ہے، ہم 40 لوگ خوست میں اکٹھے ہوئے اور براستہ چیوار پاکستان میں داخل ہو ئے۔
بمبار نے کہاکہ پھر لالے ژے کے علاقے بروند (جنوبی وزیرستان) گئے جہاں طالبان کامرکز تھا، ہمارا کمانڈر عمر حماس تھا جو خودکش حملوں کی تربیت دیتا تھا، ’خودکش حملے کی تربیت 3 ماہ کی تھی جبکہ میں نے ایک ہفتہ کی تربیت لی، اس دوران ہمیں سکھایا گیا کہ گاڑی پر خود کش حملہ کیسے کرنا ہے۔‘
خود کش بمبار نے کہاکہ یہ بھی تربیت دی گئی کہ چیک پوسٹ پر اورفوج پر کیسے خود کش حملہ کرنا ہے، ہمارے گروپ میں 20 نوجوان شامل تھے جن کی عمریں 18، 20 اور 22 سال تھیں، میں نے تربیت کے دوران وہاں اذان کی آواز سنی، پھر مجھے احساس ہوا کہ پاکستانی فوج بھی مسلمان ہے، اس پر خودکش حملہ کرنا حرام ہے۔
گرفتار خود کش بمبار کے انکشافات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان طالبان کم عمر نوجوانوں کی ذہن سازی کررہے ہیں، مذہبی ذہن سازی کے ذریعے ان کم عمر نوجوانوں کو افواج پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ سر گرمیوں پر اُکسایا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر چار تارکین وطن کے قتل کا الزام ہے جن کی لاشیں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان چار میں سے ایک پاکستانی جبکہ تین کا تعلق افغانستان سے تھا۔اطلاعات کے مطابق پولیس کو جنوبی کالابریا کے زرعی علاقے میں ایک گاؤں کے نزدیک پیٹرول پمپ سے جلی ہوئی گاڑی ملی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آتا ہے کہ دو افراد نے باہر سے وین کے دروازے بند کیے اور اندر کوئی مائع شے ڈال کر آگ لگا دی۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مقامی کھیتوں میں کام کی تقسیم اور رہائش کے حوالے سے تارکین وطن میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے تقریباً ایک بجے فائر فائٹرز کو جلتی ہوئی وین کی اطلاع ملی تھی۔آگ بجھانے کے بعد انھوں نے اندر دیکھا تو ایک خوفناک منظر تھا۔ وین میں چار جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں۔رپورٹس کے مطابق بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل شواہد کی بنیاد پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔