کراچی:

سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین سمیت کسی بھی غیر قانونی تارک وطن کو نہیں رہنا چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ خالی کی جانے والی بستیاں سرکار کی ہیں اور سرکار ان پر قبضہ کرنے نہیں دے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے محکمہ ٹرانسپورٹ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم فعال کام کر رہا ہے اور تمام آپریشنز کو لائیو مانیٹر کیا جاتا ہے، روٹس اور مسافروں کی مانیٹرنگ ہوتی ہے جبکہ مسافروں کو دی جانے والی سہولیات اور بی آرٹیز کی آمدنی بھی مانیٹر کی جاتی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ خواتین زیادہ سے زیادہ ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں، خواتین کو خودمختار بنانے کے لیے پلانز جاری رہیں گے، خواتین کے لیے پہلی بس سروس حکومت سندھ لائی۔ دسمبر میں پنک ای وی ٹیکسی شروع کر رہے ہیں اور اس سے بھی خواتین کو کافی فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بارشوں اور ترقیاتی کام جاری رہنے کے باعث کہیں نہ کہیں بسز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے پورے صوبے کو بس سروس کی بہت ضرورت ہے اور بلاول بھٹو کی سخت ہدایات ہیں کہ اچھی بس سروس دیں، مزید بسیں بھی جلد منگوائیں گے۔

سینیئر وزیر نے کہا کہ مانیٹرنگ سسٹم بھی اعلیٰ قسم کا قائم ہے، شہر میں کچھ اسکیمز التوا کا شکار ضرور ہیں لیکن ان کی وجوہات ہیں، ٹھیکیداروں سے مسئلہ حل ہو چکا ہے اور آئندہ سندھ کابینہ کی میٹنگ میں منظوری حاصل کر لیں گے۔ سینیٹر تاج حیدر برج بھی بنا رہے ہیں اور شاہراہ بھٹو بھی کافی حد تک تیار ہو چکا ہے۔

قبل ازیں، سینیئر وزیر گرین اینڈ اورنج لائن آپریشنز کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پہنچے جہاں انہوں نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔ کمانڈ سینٹر حکام نے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کو آپریشنز سے متعلق بریفنگ دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی

نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت  مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔

ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری