نیب کو زلفی بخاری کی جائیداد نیلام نہ کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو زلفی بخاری کی جائیداد نیلام نہ کرنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءزلفی بخاری کی جائیداد نیلام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا ہے۔
اس حوالے سے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بنچ نے آرڈر جاری کیا جہاں زلفی بخاری کی بہن نے درخواست دائر کی تھی کہ جائیداد تقسیم نہیں ہوئی تو نیلامی کا آرڈر جاری نہیں کیا جا سکتا۔
بتایا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو نے القادر ٹرسٹ کیس میں اشتہاری قرار دیے جانے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کی 800 کنال سے زائد زرعی اراضی نیلام کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
اس حکم کے بعد تحصیل جنڈ ضلع اٹک کے اسسٹنٹ کمشنر نے جائیداد نیلامی کا باضابطہ اشتہار بھی جاری کیا، جس کے تحت نیلامی میونسپل دفتر جنڈ میں ہونا تھی۔
معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈی نیشن ونگ نے اس حوالے سے احکامات جاری کیے جب کہ اشتہار کے ذریعے نیلامی کے لیے پیش کی گئی اراضی میں دو حصے شامل تھے، جن میں ایک 771 کنال 9 مرلے پر مشتمل بڑا رقبہ اور 25 کنال 7 مرلے پر مشتمل دوسرا رقبہ، ملا کر یہ کل اراضی تقریباً 800 کنال بنتی ہے جس کی نیلامی نیب کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے کرائی جانا تھی۔
اس معاملے پر اپنا مو ¿قف دیتے ہوئے زلفی بخاری نے نیب کی ہدایت پر لیے گئے اقدام کو قانون کا سراسر مذاق قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قانون کا سراسر مذاق اور پاکستان میں رائج موجودہ ناانصاف قانونی نظام کی ایک جھلک ہے۔
چاہے میری تمام جائیدادیں مجھ سے چھین لی جائیں، میں پھر بھی عمران خان کی رہائی اور جمہوری پاکستان کی جدوجہد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جائیداد نیلام زلفی بخاری کی جاری کیا کا حکم
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔