ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ، صارفین کے لیے بجلی سستی ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سی پی پی اے کی جانب سے بجلی کی قیمت میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت کمی کی درخواست پر سماعت 29 اکتوبر کو کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین کے لیے بجلی سستی ہونے کا امکان ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے سی پی پی اے کی جانب سے نیپرا میں باقاعدہ درخواست جمع کرا دی گئی ہے، جس میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں 37 پیسے فی یونٹ کمی مانگی گئی ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سی پی پی اے کی جانب سے بجلی کی قیمت میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت کمی کی درخواست پر سماعت 29 اکتوبر کو کرے گا۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے زرعی اور صنعتی صارفین کے لیے بھی ایک طویل مدتی پیکیج تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت زرعی اور صنعتی صارفین کے لیے طویل مدتی ریلیف پیکیج کی تیاری کررہی ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمتوں میں 3 سال کے لیے 14 روپے فی یونٹ تک کی کمی کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ بجلی کی قیمتوں میں صارفین کے لیے کی جانب سے کا امکان کے تحت
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔