بیٹی کی مغربی طرز کی شادی کی ویڈیو وائرل، خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی کا ردعمل آگیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
بیٹی کی مغربی طرز کی شادی کی ویڈیو وائرل، خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی کا ردعمل آگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مشیر ایڈمرل علی شمخانی نے بیٹی کی مغربی طرز کی شادی کی وائرل ویڈیو پر ردعمل دے دیا۔
گزشتہ دنوں علی شمخانی کی بیٹی کی شادی کی تقریب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، یہ ویڈیو گزشتہ برس اپریل میں ہونے والی شادی کی تقریب کی ہے۔
ویڈیو میں علی شمخانی اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے، نچھاور پھولوں کے درمیان شادی ہال میں داخل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ اپنی بیٹی کے ساتھ اسٹیج تک جاتے ہیں، جہاں ان کا داماد اپنی فیملی کے ساتھ موجود ہوتا ہے اور گروپ تصاویر کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔
تاہم، سب کی توجہ اس بات پر گئی کہ ویڈیو میں علی شمخانی کی بیٹی اور اہلیہ مغربی طرز کے لباس میں نظر آئیں، جب کہ تقریب میں موجود دیگر خواتین بھی بغیر حجاب کے دکھائی دیں۔
ایران میں جہاں پردے اور حجاب پر سخت پابندی ہے، وہاں اس ویڈیو نے حیرانی اور تنازع پیدا کر دیا۔
خیال رہے کہ علی شمخانی ایران کے سینئر ترین عہدیداروں میں شمار ہوتے ہیں۔
انہوں نے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں حصہ لیا اور خواتین کے حقوق کے لیے ملک میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی قیادت بھی کی اور وہ سابق قومی سلامتی کونسل کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق علی شمخانی کی بیٹی کی شادی کی لیک ویڈیو نے تہران میں عوامی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
ایرانی سوشل میڈیا صارفین نے اسے دوغلا پن قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ علی شمخانی تمام عہدوں سے فوری مستعفی ہوں اور مذہبی حلقوں نے ویڈیو کو ایران کے سخت اسلامی ضوابط کی خلاف ورزی قرار دے کر شدید تنقید کی۔
دوسری جانب علی شمخانی کے حامیوں نے کہا کہ ویڈیو کا لیک ہونا ایک بیرونی سازش ہو سکتی ہے، جس کا مقصد انہیں بدنام کرنا ہے۔
انہوں نے اسے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور سیاسی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔
بعدازاں علی شمخانی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اس ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں، یہ جملہ وہ گزشتہ جون میں اسرائیل کے فضائی حملے سے محفوظ رہنے کے بعد بھی استعمال کر چکے ہیں۔
انہوں نے صحافی سے گفتگو میں ویڈیو کے لیک ہونے کے پیچھے اسرائیل کے ہاتھ ہونے کا اشارہ بھی دیا اور اسے بیرونی بھی مداخلت قرار دیا۔
علی شمخانی نے مزید کہا کہ یہ تقریب صرف خواتین کی تھی اور وہ صرف اپنی بیٹی کو اسٹیج تک چھوڑنے گئے تھے، اس لیے وہاں پر مردوں کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمستونگ سے اغوا ہونے والے پولیس افسر کی لاش مل گئی غزہ امن مشن میں متعدد ممالک شمولیت پر آمادہ؛ امریکی وزیر خارجہ کا انکشاف چین اور امریکہ کے درمیان معاشی و تجارتی مذاکرات کل سے ملائشیا میں ہوں گے چین کا شامی عبوری حکومت سے دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ امریکا کا روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں پر پابندیاں لگانے کا اعلان اسرائیلی پارلیمنٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کی منظوری دے دی یورپی فریق چین اور روس کی کمپنیوں کے معمول کے تجارتی تبادلوں پر اعتراض کرنے کا اہل نہیں ہے ، چینی وزارت خارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: علی شمخانی کی شادی کی بیٹی کی
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔