غزہ میں امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری، مزید 6 فلسطینی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
غزہ: اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ تازہ اسرائیلی حملوں میں مزید 6 فلسطینی زخمی ہوگئے۔
فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک 93 فلسطینی شہید اور 320 زخمی ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں مجموعی طور پر 68 ہزار 519 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 70 ہزار 382 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں کم از کم 15 لاکھ افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، جن فلسطینیوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کی طرف واپسی کی، وہ صرف ملبے کے ڈھیر، بھوک اور پیاس کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، مغربی کنارے میں بھی غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حملے جاری ہیں۔ ان حملوں میں فلسطینیوں کے گھروں، کمیونٹیوں اور زرعی زمینوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک